صوبہ سندھ کے علاقے جھول میں قائم قدیم اسکول کی عمارت خستہ حال اسکول کی عمارت 1965 سے قائم ہے جسے ہائی سکول کا درجہ حاصل ہے اسکول کی عمارت خستہ حال ہونے کی وجہ سے اسکول میں زیر تعلیم 2374 طلباء کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں سندھی پنھنجی اخبار کے مطابق جھول ہائی سکول میں 24 سو طلباء زیر تعلیم ہیں، 15 کلاس رومز مکمل طور خستہ حال ہوچکے ہیں ۔ خستہ حال کلاس روم کسی بھی وقت کسی جانی نقصان کا اندیشہ ہے اور سینکڑوں طلباء کی زندگیوں کو خطرہ یے سکول میں پینے کے پانی اور واش رومز کی کوئی سہولت نہیں ہے، جھول ہائی سکول کو 2003 میں ہائیر سیکنڈری سکول کے طور پر اپ گریڈ کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود 21 سال گزرنے کے باوجود عملہ تعینات نہیں کیا گیا، سکول میں فرنیچر، کلاس رومز اور آلات کی کمی ہے جبکہ سکول کی لیب میں آلات کی شدید کمی ہے۔ جھول کے سماجی رہنما ڈاکٹر محمد ہاشم خاصخیلی، منٹھار فقیر کوری ، رائے صبغت اللہ کھرل اور دیگر رہنمائوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جھول ہائی سکول کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور سکول کی تعمیر کا کام مکمل کیا جائے۔ اسکول کے لیے نئی عمارت، اسکول کے وائس ہیڈ ماسٹر الطاف حسین پنہور نے کہا کہ اسکول میں سہولیات کے فقدان کے خلاف متعدد بار تحریری شکایات کر چکے ہیں۔ لیکن کوئی ایکشن لینے کو تیار نہیں، سکول میں کسی بھی وقت بڑا حادثہ ہو سکتا ہے، جبکہ جھول کے گاؤں پیروز خان تھہیم کی عمارت آدھی ختم، طلبہ اس میں پڑھنے پر مجبور ہیں، سکول کی عمارت 1985 سے قائم ہے جس میں 100 کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں، ہیڈ ماسٹر ارشد قریشی کے مطابق اسکول کی مرمت کے لیے ڈیڑھ سال قبل رقم آئی تھی، ٹھیکیدار نے آدھا کام چھوڑ کر ضائع کردیا، معصوم بچے اس خستہ حال عمارت میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔