بیٹے کی راہ تکتے تکتے بوڑھی ماں کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں

صبانور صبانور

بیٹے کی راہ تکتے تکتے بوڑھی ماں کی آنکھیں پتھرا  گئی ہیں

آبائی زمین، گھر اور زیورات۔۔۔ سب کچھ فروخت کرکے تاوان ادا کیا مگر بھائی واپس نہ آیا۔۔۔کراچی ہجرت کالونی میں ایک ایسا خاندان بھی ہے جو دو برس سے انتظار کی سولی پر جھول رہا ہے۔

والدہ آبدیدہ

 بیٹے کی راہ تکتے تکتے بوڑھی ماں کی آنکھیں پتھرا  گئی ہیں۔۔۔

معصوم بچوں کی نظریں بھی بابا کو  ہر وقت تلاش کرتی   اور بیتے دن یاد  کرکے  چھلکتی رہتی ہیں۔۔۔

میری ہمت نے بھی جواب دے دیا کہ ان بچوں کو کیا جواب دوں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں

دو سال کا عرصہ بیت گیا مگر اس  خاندان کی امید وں کا دیا آج بھی روشن ہے،ہجرت کالونی کے اس چھوٹے سے مکان میں 7بچوں کی کفالت کرنے والے شاہ وزیر  کو کس نے اور کیوں اغواء کیا، یہ تو اہلخانہ نہیں جانتے، مگر کہتے ہیں کہ اغواء کے چارماہ بعد زندگی بھر کی جمع پونجی35 لاکھ روپے  تاوان کی صورت اغواء کاروں کو ادائیگی کی  مگر شاہ وزیر  واپس نہ آیا۔

29جولائی 2019کو 18دن بعد کال آئی اگر آپ بھائی کی زندگی چاہتے ہیں تو ایک کروڑ کا بندوبست کریں ۔میں نے زمین اور زیورات فروخت کرکے پیسے دئے 35 لاکھ میں ڈیل فائنل ہوئی۔ بلوچستان خضدار سے مجھ سے تاوان وصول کیا

دو سال سے بیٹے  کے دیدار کو ترستی  ماں   گہرے صدمے کے باعث فالج  میں مبتلا ہوچکی ہے۔لرزتے ہاتھ جوڑ کر ارباب اقتدار سے اپیل کرتی ہی کہ بیٹے کو واپس لانے کے اقدمات کئے جائیں ۔ننھی زینب اور حمزہ کو  بھی والد کے جلد لوٹ آنے کی امید ہے۔

پولیس  کا کہنا ہے کہ  اہلخانہ مغوی کے جس دوست پر اغواء میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہیں، بظاہر اس کا واردات میں کردار نظر نہیں آتا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اغواء کاروں کی نشاندہی  کی جاچکی ہے اور اغواء کاروں کے چنگل سے شاہ وزیر کی جلد بازیابی کے لئے اقدمات جاری ہیں