ارسا ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے، چھ نئے کینال نکالنے، ایس آئی ایف سی کی جانب سے سندھ کی زمینوں اور معدنی وسائل کی فروخت، اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف سندھیانی تحریک کی جانب سے 22 دسمبر 2024 کو ہاکی گراؤنڈ سے گھنٹہ گھر چوک تک نکالی گئی احتجاجی ریلی میں منظور کی گئی قراردادیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ کٹھ پتلی بلاول-شہباز اتحادی حکومت نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے نام سے ایک غیر آئینی اور ملک دشمن ادارہ تشکیل دیا ہے جس کے ذریعے ملک کی 48 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کارپوریٹ فارمنگ اور گرین پاکستان کے نام پر عسکری اداروں کے توسط سے غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سندھ کی 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین غیر ملکی کمپنیوں کو دی جا رہی ہے، اس سلسلے میں پہلی قسط کے طور پر سندھ کی 52 ہزار ایکڑ سے زائد زمین نوٹیفکیشن کے ذریعے فوج سے منسلک کمپنی، گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو پرائیویٹ لمیٹڈ، کو دی گئی ہے۔ دوسری قسط کے تحت گولاڑچی کی یوسی احمد راجو کی ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کے لیے 80 سے زائد گاؤں مسمار کر کے وہاں کے رہائشیوں کو جبری طور پر بے دخل کیا جا رہا ہے۔ بے دخل کیے گئے دیہاتیوں کی زمینیں بھی غیر ملکی کمپنیوں کو دی جائیں گی۔ اس صورتحال کے پیش نظر سندھ کی مزید زمین فروخت کرنے کے لیے پیپلز پارٹی حکومت نے اپنے وزیروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے ایوان صدر میں آصف زرداری کی صدارت میں دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکالنے، سندھ کا پانی بند کرنے، سندھ کی چھ ہزار سالہ تہذیب کو برباد کرنے اور کروڑوں عوام کو بھوک اور پیاس سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پنجاب حکومت گزشتہ ڈیڑھ صدی سے سندھ کے پانی پر ڈاکے ڈال کر سندھ میں قحط کی صورتحال پیدا کرتی رہی ہے۔ پنجاب حکومت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مرکزی باری دو آب کینال، سندھ نائی کینال، زیریں چناب کینال، زیریں جہلم کینال، پہاڑ پور کینال، سوات کینال، جہلم کینال، بالائی چناب کینال، زیریں باری دو آب کینال، ستلج ویلی پروجیکٹ کے تحت 11 نہریں اور 4 ہیڈورکس، تونسہ پنجند کینال، چشمہ جہلم لنک کینال، جلال پور کینال، سلمانکی ہیڈورکس کے تحت کئی ڈاکو نہریں اور کینال نکال کر سندھ کے حصے کا پانی چراتی رہی ہے۔ پنجاب کی جانب سے سندھ کا پانی چوری کرنے کے باعث سندھ اس وقت شدید پانی کی قلت کا شکار ہے۔ پاکستان کے قیام سے قبل دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں 185 ارب کیوبک پانی پہنچتا تھا، لیکن اب ایک کیوبک پانی بھی نہیں پہنچتا۔ سیلابی صورتحال کے علاوہ، کوٹری بیراج سے نیچے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ سندھ کی لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین پہلے ہی پانی کی کمی کے باعث بنجر اور کلر زدہ ہو چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں پنجاب نواز بلاول-شہباز اتحادی حکومت دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکال کر دریائے سندھ کا پانی مکمل طور پر بند کرنے اور سندھ کو بنجر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سندھیانی تحریک کے اس عظیم الشان مارچ میں ہزاروں خواتین کے ساتھ شریک ادیب، دانشور، قلمکار، مختلف فورمز کے رہنما، وکلاء، فنکار، شاعر، طلباء، نوجوان، بچے اور بزرگ مطالبہ کرتے ہیں کہ:
پنجاب کے حکمرانوں کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے دریائے سندھ پر لگائے گئے ڈاکوں کا سندھ کو حساب دیا جائے۔ قابل اعتماد عالمی اداروں سے ڈیڑھ صدی سے سندھ کے پانی پر مسلسل لگنے والے ڈاکوں اور چوری شدہ پانی کی منصفانہ تحقیقات کروائی جائیں، اور سندھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ گرین پاکستان منصوبے کے تحت چولستان کی 60 لاکھ ایکڑ زمین آباد کرنے کے لیے دریائے سندھ سے غیر قانونی طور پر چھ نئے کینال نکالنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ارسا ایکٹ 1992 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترمیم 1973 کے آئین کے آرٹیکل 154 اور 155 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پانی سے متعلق تمام معاملات مشترکہ مفادات کونسل کا اسم ہیں، اس معاملے پر ایکنک یا کسی دوسرے فورم میں کیے گئے فیصلے 1973 کے آئین کی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے غیر آئینی فیصلے کرنے والی ملک دشمن قوتوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے، ان پر سنگین غداری کے مقدمات درج کیے جائیں، اور ارسا ایکٹ میں کی گئی غیر آئینی ترمیم فوری طور پر واپس لی جائے۔ کوٹری کے نیچے سمندر میں پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے ٹھٹہ، سجاول اور بدین اضلاع کی لاکھوں ایکڑ زمینیں سمندر برد ہو چکی ہیں۔ تمر کے جنگلات ختم ہو گئے ہیں۔ ماہی گیری سے روزگار کمانے والے لاکھوں ملاح، ساحلی پٹی کے رہائشی، کسان اور کاشتکار اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں اور ان کا روزگار تباہ ہو چکا ہے۔ ان تمام متاثرین کو معاوضہ دیا جائے، بے گھر لوگوں کو گھر فراہم کیے جائیں اور کوٹری کے نیچے مطلوبہ مقدار میں پانی چھوڑا جائے۔ کارپوریٹ زرعی فارمنگ کے نام پر سندھ کی 52 ہزار 713 ایکڑ زمین گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کمپنی کو دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور یہ زمینیں مقامی کسانوں اور کاشتکاروں کو دی جائیں۔ لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2024 سندھ کے جزیروں پر قبضے کا پروانہ ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت سندھ کے جزائر اور بندرگاہوں کو وفاقی اتھارٹی کے ذریعے نیلام کرنا چاہتی ہے۔ سندھیانی تحریک آج کی ریلی میں اس بل کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے وسائل کو نیلام کرنے کا سلسلہ بند کرے۔ سندھ کے وسائل سندھی قوم کی ملکیت ہیں، وفاق کی نہیں، لہٰذا یہ بل فوری طور پر واپس لیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اغوا انڈسٹری اور قبائلی جرگوں کو فروغ دے کر شمالی سندھ کے تمام اضلاع کو ڈاکو اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جنوبی سندھ کے اضلاع میں بدامنی اور لاقانونیت کا راج ہے۔
سندھ کے پرامن شہریوں اور اقلیتوں کو حکومت کے پروردہ ڈاکوؤں کے ذریعے یرغمال بنایا گیا ہے۔ منشیات فروش ضلعی انتظامیہ اور بااثر حکومتی افراد کی نگرانی میں کھلے عام منشیات کا گھناؤنا کاروبار کر رہے ہیں۔ شمالی سندھ میں سرداروں، سندھ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ نے سندھی عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سندھ میں ڈاکو راج ختم کرنے کے لیے ڈاکوؤں کی سرپرستی کرنے والے سرداروں اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ڈاکوؤں کو نیٹو کے اسمگل شدہ جدید ہتھیار ملنے کے معاملے کی سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے، ذمہ داران کو سزا دی جائے اور مجرموں کا خاتمہ کر کے امن بحال کیا جائے۔ پریا کماری سمیت تمام مغویوں کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، اغوا کرنے والے ڈاکوؤں اور ان کے سرپرست سرکاری سرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ شہید جان محمد مہر، شہید نصر اللہ گڈانی سمیت تمام صحافیوں کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، اور پیکا آرڈیننس کے تحت صحافیوں پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ملک کو انتہا پسند قوتوں کے حوالے کرنا بند کیا جائے اور پاکستان کے آئین کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح کے سیکولر اور جمہوری اقدار پر رکھی جائے۔ انتہا پسندی پھیلانے والے شرپسندوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔ سندھ میں خواتین پر ظلم و ستم عروج پر ہے۔ کاروکاری، ونی، بدی کی شادیاں، کم عمری کی شادیاں، ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بلنگ، زبردستی کی شادیاں اور لڑکیوں پر تشدد جیسے جرائم روز کا معمول بن چکے ہیں۔ سندھ حکومت اور پولیس مجرموں کی سہولت کار بنی ہوئی ہیں۔ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں اور ان میں مقامی خواتین کو نمائندگی دی جائے۔ وومن پروٹیکشن سیل اور اینٹی ہراسمنٹ سیل ناکارہ ہو چکے ہیں، ان اداروں کو فعال بنایا جائے اور ان میں ایماندار اور قابل افسران کو تعینات کیا جائے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن، سندھ کے تعلیمی بورڈز، میڈیکل ٹیسٹ لینے والے ادارے اور دیگر مسابقتی امتحانات لینے والے ادارے پیپلز پارٹی حکومت کی منڈی بن چکے ہیں۔ گریڈز اور ملازمتوں کی فروخت کے ذریعے غریب طلبہ کے حقوق پامال کرکے میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں کے مستقبل کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ایسے گھناؤنے اقدامات میں ملوث افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے ذریعے جان بوجھ کر سندھیوں کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے۔ بدنیتی پر مبنی اس جعلی مردم شماری کے نتائج مسترد کیے جائیں، سندھ میں موجود غیر قانونی غیر ملکیوں کو بے دخل کیا جائے، اور مقررہ وقت پر درست طریقے سے مردم شماری دوبارہ کرائی جائے۔ ساتھ ہی ان غیر ملکیوں کو رشوت کے ذریعے سندھ کے شناختی کارڈ جاری کرنے والے نادرا کے افسران کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے، اور سندھ میں مقیم غیر قانونی غیر ملکیوں کو نیکالی دی جائے۔
سندھ کے تہذیبی، ثقافتی، اور تاریخی مقامات پر قبضے کرکے انہیں تباہ کیا جا رہا ہے، جن میں کارونجھر، گورکھ، کھیر تھر، اروڑ بکھر کا قلعہ، گنجہ ٹکر، کینجھر، منچھر، ہالیجی، نیشنل پارک، بھنبھور، موئن جو دڑو، مومل جی ماڑی، کاہو جو دڑو سمیت تمام تاریخی مقامات شامل ہیں، ان تاریخی مقامات پر قبضے سندھ کی ثقافت پر حملہ ہیں۔ آج کے جلسہ عام میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سندھ کے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ان پر سے قبضے ختم کرائے جائیں۔
26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بنیادی طور پر ایس آئی ایف سی کو سندھ کی زمینوں، سندھ کے پانی، اور معدنی وسائل پر قبضے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ججوں کی تقرری اور اختیارات میں بلاجواز مداخلت کے باعث سپریم کورٹ کو قید کرکے عوام سے انصاف کا حق چھین لیا گیا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور بنیادی آئینی اور انسانی حقوق بحال کیے جائیں۔