سندھ کی جامعات میں بیوروکریٹس کو بطور وائس چانسلر تعینات کرنے کے مجوزہ فیصلے کےخلاف اساتذہ سراپااحتجاج ہیں

عرفان علی عرفان علی

 سندھ کی جامعات میں بیوروکریٹس کو بطور وائس چانسلر تعینات کرنے کے مجوزہ فیصلے کےخلاف اساتذہ سراپااحتجاج ہیں


سندھ کی جامعات میں بیوروکریٹس کو بطور وائس چانسلر تعینات کرنے کے مجوزہ فیصلے کےخلاف اساتذہ سراپااحتجاج ہیں ۔۔۔بارہ دن سے جامعات میں تدریسی عمل معطل ہے ۔۔ اساتذہ کا کہنا ہے وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلے سرچ کمیٹی کو سلیکشن کمیٹی میں تبدیل کیا ۔۔۔ متنازعہ قانون سازی کو تسلیم نہیں کریں گے ۔

نعرے بازی

کراچی پریس کلب کے سامنےجامعات کے اساتذہ  کا بیوروکریٹس کی  بطور وائس چانسلر تعیناتی کیخلاف احتجاج کیا گیا ۔۔۔

 اساتذہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اپنے ہی منتخب کردہ وائس چانسلز کی اخلاقی اور مالی کرپشن کا بتا کر اپنی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں

وزیر اعلی صاحب نے اپنے سسٹم کے خلاف یہ چارچ شیٹ دی ہے کیونکہ وائس چانسلر اپوائنٹمنٹ کرنے کا اختیار ان پاس ہے وائس چانسلر کے خلاف کاروائی کرنے کا بھی اختیار ان کے پاس ہے

ہم نے سرچ کمیٹیز کو سلیکشن بورڈ میں کنورٹ کر دیا تو اس کے اندر معاملہ یہ ہوا کہ بہت سارے لوگوں نے اپلائی کیا جس کے اندر پھر یہ سب کچھ ہوا جس طرف چیف منسٹر صاحب اشارہ کر رہے ہیں 


مظاہرے میں خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی ۔۔۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ  تدریسی عمل معطل ہونےکےباعث  طلبہ  اوراساتذہ  مشکل صورتحال سےگزاررہےہیں

ہمارو یہ کام نہیں ہے کہ ہم سڑکوں پہ کھڑے ہو کر احتجاج کریں میں تو اس وقت ہمیں کلاسوں کے اندر ہونا چاہیے تھا لیکن سندھ حکومت نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کیونکہ ہم اساتذہ کرام ہیں ہم جلاؤ گھیراؤ کی سیاست نہیں کر سکتے ہم پتھراؤ نہیں کر سکتے نہ ہم کرنا چاہتے ہیں ہم تمیزدار طریقے سے اپنا احتجاج یہاں ریکارڈ کرا رہے ہیں



 ابھی تک 12 دن ہو گئے ہیں  انہوں نے ابھی تک کسی بھی لیول پر فیفسا کی قیادت کو انگیج نہیں کیا ہے


احتجاج کرنے والے اساتذہ کا کہنا تھا کہ صوبےکی  جامعات میں تدریسی عمل معطل  ہونےکےباوجود سندھ حکومت نے  رابطہ نہیں کیا ۔۔۔اگر قانون سازی کی گئی تو اس صورتحال میں احتجاج کادائرہ کار وسیع کردیاجائےگا۔