کراچی ، فریال یاسین
سندھ کےعلاقے نصیرآبادسے لاپتہ ہونے والے سینگھار نوناری کو اب تک بازیاب تو
نہ کرایا جاسکاہے،
لیکن اس کےلیے روزانہ کی بنیاد پر
نصیرآباد شہر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،
یہ احتجاج باقی احتجاج سےتھوڑا مختلف
اس لیے بھی ہے کہ اپنے شوہر کو بازیاب کرانے کےلیےایک ماں ایک اہلیہ ہر طرح سے
احتجاج کے عمل میں پیش پیش ہے،
احتجاج بھی ایسا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں پرنم کردے،
کبھی اس شدید گرمی میں سینگھار کی بوڑھی والدہ سراپا احتجاج ہے
ان کے نعرے سن کر دل پر عجیب سی ایک
ضرب لگتی ہے
ٹیس اٹھتی ہے جگر چیرتا ہوا کوئی آؒلہ جسم کے اندر داخل ہوتاہے
روح کانپ جاتی ہے درد بے ساختہ سرحدیں
توڑتا آنسوئوں کی صورت میں باہر آرہاہے،
سینگھار نوناری کون ہے،
کیاہے،
کس گناہ میں ملوث ہے ،
ان بحث سے ہٹ کر ہم اس تحریک کے اگر
احتجاجی عمل کی بات کریں
تو یہ احتجاج ملک میں چلنے والے
تمام احتجاجوں سے انتہائی مختلف منفرد ہے
ایک طرف ایک ماں ایک اہلیہ سندھی میں
انقلابی گیت گا کراپنے شوہر کی بازیابی کے لیے صدائے حق بلند کرتی دیکھاتی دیتی ہے
تو دوسری جانب ملک و قوم میں آئے روز
پیدا ہونے والا شعور مختلف آوازوں کی صورت میں ابھر کر سامنے آرہاہے،
عید کے روز خواتین نے کالے کپڑے پہن کرسینگھارکی بازیابی کےلیے ریلی نگالی ،
کالے رنگ کو ہمارے یہاں عشق ، جدائی ،
ہجروفراق سوگ کی علامت احتجاج دکھ اور درد سے تشبیہہ دی جاتی ہے،
اس منفرد احتجاج نے سوشل میڈیا میں
نئی بحث
نئے موضوع کو جنم دے رکھاہے ،
اب تو کوئی سینگھارنوناری کو جانے یا
نہ جانے لیکن اس کے حق میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ضرور سینگھار
نوناری کو بازیاب کیا جائے کی آواز بلند کرتاہے۔
سینگھار نوناری بازیاب نہ ہوسکا لیکن احتجاج جاری ہے۔
بخشل تھلو نے اپنی ٹوئٹ میں کہاہےکہ کل کامریڈ سینگھار نوناری عوام کے ساتھ تھے لیکن آج عوام سینگھار نوناری کے ساتھ ہے۔
سماجی رہنما فاروق طارق نے کہاکہ سینگھار نوناری کو اب آزاد کیاجائے
مقصودہ نے بھی کامریڈ سینگھار نوناری کی بازیابی کےلیے صدائے حق بلند رکھاہے
سندھی
ادیبہ دانشور ، سماجی رہنما خواتین کے حقوق کےلیے ہمیشہ صدائے حق بلند کرنی والی
امر سندھو کاکہناہےکہیہ محرم کےسیاہ لباس میں عورتوں والا
جلوس نہیں عید کے دن میں عورتیں سیاہ لباس میں سینگھار کی آزادی کے لیئے شہر کی
سڑکوں پہ احتجاج میں ہیں۔