کراچی میں جے ایس بینک
کی دو برانچز میں مبینہ طور پر غبن کرکے
پچھتر کروڑ مالیت کا سونا اور رقم
بٹورنے کے کیس میں مزید انکشافات سامنے آگئے۔ واردات کی ماسٹر
مائنڈ خاتون رقم بٹورنے کے ساتھ بینک ملازمین کو بھی معقول حصہ اور تحائف دیتی رہی۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ جعلسازی کیس میں گرفتاربینک کے چوبیس سالہ گولڈ فنانس ایگزیگٹو کے بینک اکاؤنٹ میں
چوبیس لاکھ روپے موجود ہونے کا
انکشاف ہوا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ الطاف حسین کا کہنا ہے کہ بینک ملازمین جعلساز
خاتون سے مختلف اوقات میں بیش قیمت تحائف بھی وصول کرتے رہے ہیں جبکہ گرفتارگولڈ فنانس ایگزیگٹیو کو مبینہ ماسٹر مائنڈ خاتون نے کار بھی تحفے میں دی۔
گلستان جوہربرانچ کی خاتون منیجر کو بھی
پلاٹ تحفے میں دیا گیا مگر کچھ روز بعد واپس لے لیا گیا تھا۔حکام کہتے ہیں کہ
ملزمہ نے جعلسازی سے حاصل رقم کے بڑے حصے
سے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی اور
بیش قیمت گاڑیاں بھی خریدیں۔تفتیشی حکام
دعویٰ کرتے ہیں کہ ملزموں کی نشاندہی پر برآمد چار گاڑیاں اور طلائی زیورات تحویل
میں لئے جاچکے ہیں جبکہ بینک سے برآمد
ہونے والے نقلی زیورات بھی تحویل میں لینے کے لئے کارروائی شروع کردی ہے۔د و اگست
کو سامنے آنے والے بینک فراڈ کیس میں اب تک چودہ
ملزم گرفتار کئے جاچکے جن میں سے بیشتر
ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔