پورٹ قاسم اتھارٹی کا کہنا ہے کراچی میں پانچ سو ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے معاملے میں کوئی غلط کام نہیں ہوا۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کا اعلامیہ میں کہنا ہے پانچ سو ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے لئے بولی کا عمل سن دوہزار پانچ میں شروع ہوا۔دوہزار دس میں کامیاب بولی کے ذریعے زمین الاٹ کی گئی ۔ زمین پر ترقیاتی کام الاٹی کی ذمہ داری تھی۔پارٹی کی جانب سے طے شدہ اقساط کی عدم ادائیگی پر دوہزار بارہ میں پورٹ قاسم اتھارٹی نے زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کردی ۔ پارٹی نے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اسٹے آرڈر لے لیا۔ دوہزار چوبیس تک معاملہ عدالت میں زیر سماعت رہا، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ایک دہائی طویل تنازعہ طے کرنے کے لئے پورٹ قاسم اتھارٹی کے بورڈ نے عدالت کے باہر تنازعہ طے کرنے کی منظوری دی۔ نیب کراچی کو مطالبے پر زمین سے متعلق ریکارڈ فراہم کیا گیا اور اس وجہ سے تصفیے کے معاملے کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ سینٹ قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے اجلاس کے بعد اس معاملے پر مختلف خبریں میڈیا کی زینت بنیں۔ پورٹ قاسم اتھارٹی اس معاملے میں کسی قسم کے غلط کام کی ترید اور شفافیت کے حوالے سے اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتی ہے۔