ہم دریائے سندھ پر نئے نہروں کے خلاف کراچی میں وکلا کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی صدر عوامی تحریک
دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے سندھ کا بچہ بچہ جدوجہد کرے گا، وسند تھری
دریائے سندھ پر نہروں، کارپوریٹ فارمنگ اور 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا کا احتجاج حوصلہ افزا ہے، وسند تھری
26 ویں آئینی ترمیم عدلیہ کا قتل ہے، وسند تھری
آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی روح مجروح کی گئی ہے، وسند تھری
26 ویں آئینی ترمیم پاس کر کے ملکی آئین کو پیروں تلے روندھ دیا گیا ہے، وسند تھری
حیدرآباد عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، ایڈووکیٹ راحیل بھٹو اور ایڈووکیٹ خالد تنیو نے اپنے جاری کردہ مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ دریائے سندھ پر نئے نہروں، کارپوریٹ زرعی فارمنگ منصوبوں اور 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا کا احتجاج حوصلہ افزا ہے۔ وکلا کے احتجاج کی عوامی تحریک بھرپور حمایت کرتی ہے۔ دریائے سندھ، سندھ کے گزرانے کا واحد ذریعہ ہے۔ دریائے سندھ ہی سندھو تہذیب کا جنم دینے والا ہے۔ دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے ساری سندھ پرامن جمہوری جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے نظام کو مفلوج بنا دیا گیا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں بے بس ہوگئی ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کی روح مجروح کی گئی ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم پاس کر کے ملک کے آئین کو پیروں تلے روندھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ زرعی فارمنگ منصوبے زمینوں پر قبضہ کرنے کے منصوبے ہیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے معاشی خوشحالی کی بجائے بدحالی کا دور شروع ہوگا۔ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین چھینی جا رہی ہے۔ سندھ کا عوام اپنے تاریخی وجود کو بچانے کے لیے سڑکوں پر نکلے گا اور کالا باغ ڈیم کی طرح کارپوریٹ زرعی فارمنگ منصوبے اور نئے نہروں کو رد کرائے گا۔