بھٹو کی کچی قبر۔۔۔میں اور تاریخ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

بھٹو کی کچی قبر۔۔۔میں اور تاریخ

بھٹو کی کچی قبر۔۔۔میں اور تاریخ 

ناصر بیگ چغتائی 

سندھ انفارمیشن کے بڑے افسر سیف الرحمن گرامی نے سینسر شدہ کاپی کا پھر جائزہ لیا۔۔۔مجسٹریٹ نے غور سے دیکھا اب اخبار کی جگہ صرف لوح لگی ہوئی تھی اور کچھ تصویریں تھیں۔۔۔۔۔اس اخبار کی اس حالت میں بھی سرکولیشن ایک لاکھ سے زیادہ تھی ۔۔۔یہ مساوات تھا۔۔۔گرامی صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ان کی آنکھوں میں نمی سی تھی جب کہ مجسٹریٹ کا چہرہ سپاٹ تھا شاید وہ کوئی بھی تاثر دینے سے ڈر رہا تھا۔۔۔ دونوں نے کاپی پر دستخط کئے اور پھر لکڑی کی سیڑھیاں اترتے چلے گئے ۔۔۔یہ دفتر سندھ مدرسہ کے سامنے ہی تھا ۔۔۔یہاں نیو چالی پر ہاکروں کی ہل چل شروع ہوگئی تھی اور ہم پریس کلب جارہے تھے جنگ کے سامنے سے گزرے تو کچھ اور دوست ساتھ ہوگئے ۔۔۔۔امن اور ڈان والے بھی اپنے اپنے راستوں سے پریس کلب ہی جارہے تھے ۔۔

بھٹو صاحب مجھے بہت پسند تھے ۔۔شاید میں بطور طالب علم سیکیورٹی کونسل میں ان کی تقریر سے متاثر تھا۔۔۔۔پھر ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں شاید ستمبر 1977 میں آخری ملاقات ہوئی جب وہ قتل کیس میں جسٹس صمدانی کی عدالت سے رہائی کے بعد کراچی آئے تھے ۔ اس گفتگو کے نوٹس طویل ہیں لیکن مجھ جیسے ناتجربہ کار۔۔۔کم علم۔۔۔کو بھی اندازہ تھا کہ یہ مایوس نہیں لیکن اسے یقین ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے  " سوچا آخری عید گاوں میں کرلوں " ۔۔۔انہیں پتہ تھا کہ " خون آشام " ان کے پیچھے پڑے ہیں کیونکہ انہوں  نے " شراکت اقتدار" سے انکار کردیا تھا۔۔۔۔۔

 اب یہیں رکیں۔ پھر پڑھیں ۔۔بھٹو صاحب مارشل لاء سے شراکت اقتدار کے خلاف تھے ۔۔۔۔۔

بھٹو صاحب سے محبت عشق میں ان کی اس تقریر کا ترجمہ کرتے ہوئے بدلی جو انہوں نے آخری بار بقول سپریم کورٹ " غیر منصفانہ متعصب ججوں " کے سامنے کی۔۔۔یہ تقریر اگر کہیں موجود ہے تو ضرور پڑھیں۔۔۔بھٹو کی تقریر کے طور پر نہیں۔۔۔ایک ادبی شاہکار کے طور پر ۔۔ اردو انگریزی اور سندھی کے سنگم سے بلوچ روایتوں کی روشنی میں اور پنجاب کے پانیوں کی روانی سے مزین اس تقریر کے ترجمے میں خالد علیگ اور احفاظ الرحمن نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی ۔۔۔۔

بھٹو کی تدفین چند لوگوں نے کی ۔ فوجی ہیلی کاپٹر میں میت لائی گئی تو نو ڈیرو حویلی کے مالی چوکیدار اور گورکن بھی پھاوڑے لے کر کھڑے ہوگئے کہ ہم غسل دیں گے اور نماز پڑھیں گے ۔۔۔۔کچھ غصیلے جملوں کے بعد بریگیڈیئر نے نماز کی اجازت دے دی جو حویلی کے چھوٹے سے کمرے میں ہوئی۔۔۔۔کچھ دور خاندانی قبرستان گڑھی خدا بخش تھا منٹوں میں میت وہاں پہنچ گئی تو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ بریگیڈیئر قبر میں اتر کر کنکر چن ریا تھا 

اوپر۔۔۔بھٹو صاحب کی تصویر زاہد حسین نے بنائی ہے یہ اگست 1977 کی ہے اور دوسری تصویر بھٹو صاحب کی کچی قبر کی ہے جس پر بیٹی نے تاج محل بنا دیا ہے ۔ تصویر میں مساوات کے چیف رپورٹر عنایت حسین، سینئر رپورٹر الطاف صدیقی، کے یو جے اور مساوات یونین کے صدر ممتاز ترقی پسند رہنما شبر اعظمی، نواب شاہ میں مساوات کے نمائندے علی نواز خلجی  اور ناصر بیگ چغتائی نظر آرہے ہیں لیکن ایپنک اور کے یو جے کے کئی عہدے دار بھی تھے۔ہم  فوج  اور رینجرز کی سنگین ناکہ بندی کے باعث مجبور تھے مگر لاڑکانہ میں کسی نے بتایا کہ ریل کی پٹری کے ساتھ چلتے رہو نوڈیرو  پہنچ جاو گے ۔   یہ گھپ اندھیرے میں کئی گھنٹے کا سفر تھا۔  ہر گام پر لگتا تھا کہ اب گولی آئی ۔۔۔۔

صبح ہوئی تو واقعی صبح لگ رہی تھی ۔۔ہر طرف سے ہزاروں لوگ ۔۔۔جھولی میں پھول رکھے نعرہ زن ۔   گڑھی کی طرف گامزن تھے ۔۔۔یہ ان گنت تھے ۔ ان کی تعداد کا کوئی اندازہ نہیں۔۔۔۔ہر طرف سے وہ آریے تھے ۔۔۔پر طرف سے " وہ " جاریے تھے ۔۔۔۔۔۔نوڈیرو حویلی میں میرے لیے کمرہ تھا مگر میں وسیع صحن میں چلا آیا۔۔۔۔آج واقعی روز محشر تھا کوئی پروٹوکول نہیں۔۔۔جتوئی، پیرزادہ، ممتاز بھٹو، ڈاکٹر مبشر  حسن مولانا کوثر نیازی  حنیف رامے سمیت ایسا کون تھا جو درختوں کے نیچے زمین پر نہ بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔۔


بھٹو صاحب کی کچی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہوئے مجھے یقین تھا کہ کہیں سے مجھے دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں " میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔۔بندوق کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا تاریخ کے ہاتھوں نہیں " 


آج میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر اعزاز سے بالا بھٹو صاحب کی برسی پر وہ لوگ بھی ان کی توصیف کرریے ہیں جو کل ضیا کے ساتھ تھے ۔۔۔چھوٹے تھے ۔۔۔۔۔بہت چھوٹے۔۔۔۔تاریخ نے بھٹو کو بہت لاڈ سے زندہ رکھا ہے ۔۔۔۔