انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ کے بانی پروفیسر خورشید احمد 13 اپریل کو برطانیہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ کے بانی پروفیسر خورشید احمد 13 اپریل کو برطانیہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

14 اپریل 2025ء


سید مودودی کے علمی وارث، جماعت اسلامی کے رہنما، ممتاز ماہر اقتصادیات، سابق سینیٹر و وفاقی وزیر توانائی، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ کے بانی پروفیسر خورشید احمد 13 اپریل کو برطانیہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔


پروفیسر خورشید احمد 23 مارچ 1932ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے قانون، اسلامیات اور اقتصادیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایجوکیشن میں اعزازی ڈگری سے بھی نوازے گئے۔ 1949ء میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے اور 1953ء میں ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 1956ء میں جماعت اسلامی میں باضابطہ شمولیت اختیار کی۔ وہ 1985ء، 1997ء اور 2002ء میں سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور و منصوبہ بندی کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

1978ء میں آپ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی بنے اور حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ تدریس کا آغاز 1955ء میں کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ وہ یونیورسٹی آف لیسٹر کے ریسرچ اسکالر، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس کے چیئرمین، اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے وائس پریذیڈنٹ بھی رہے۔

علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ ان کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں نایاب کتابیں موجود تھیں، جنہیں بعد ازاں مختلف علمی اداروں کو عطیہ کیا۔ پروفیسر صاحب نے اسلامی معیشت، تعلیم اور اجتماعی اسلامی معاشرے پر گراں قدر تحقیقی کام کیا، جس پر انہیں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔ 1988ء میں اسلامی ترقیاتی بینک ایوارڈ، 1990ء میں شاہ فیصل ایوارڈ، 1998ء میں امریکن فنانس ہاؤس لاربا USA پرائز، اور 2010ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ آپ پر ملائیشیا، ترکی اور جرمنی کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالات لکھے گئے۔ کئی یونیورسٹیوں نے انہیں اعزازی ڈگریوں سے نوازا۔ پروفیسر خورشید احمد نے اردو اور انگریزی میں 70 سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ متعدد علمی و نظریاتی جرائد کے مدیر بھی رہے، اور تاحیات ماہنامہ "ترجمان القرآن" کے مدیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (اسلام آباد) اور اسلامک فاؤنڈیشن (لیسٹر، برطانیہ) آپ کی قائم کردہ نمایاں علمی و فکری ادارے ہیں۔ آپ نے اسلامی فکر و معیشت، پالیسی سازی، تعلیم اور عالمی اسلامی فورمز پر جو خدمات انجام دیں، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔