ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں ایران کا جوہری پروگرام علاقائی اثر و رسوخ اور اسرائیل کی سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔
پہلا حملہ
اسرائیل نے*13 جون 2025 کو ایران پر حملہ کیا، جس میں تہران، تبریز اور شیراز میں ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات** کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایرانی آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے سربراہ، 6 جوہری سائنسدانوں سمیت 78 افراد شہید ہوئے
دوسرا حملہ
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے *14 جون 2025** کو *100 سے زائد بیلسٹک میزائل* اسرائیل پر داغے، جن میں تل ابیب اور یروشلم* کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں *15 اسرائیلی زخمی* ہوئے، جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا
بین الاقوامی ردعمل
امریکی صدر *ڈونلڈ ٹرمپ* نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے اور **کشیدگی کم کرنے پر زور دیا*۔ *سعودی عرب، قطر، جاپان اور فلسطین** نے بھی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا ہے
ممکنہ اثرات
- *عالمی معیشت پر اثرات**: تیل کی قیمتوں میں **9% اضافہ** ہو چکا ہے، جبکہ **عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی* دیکھی جا رہی ہے
-علاقائی استحکام: مشرق وسطیٰ میں **مزید جنگی کارروائیوں** کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ **سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک** محتاط ردعمل دے رہے ہیں
*سائبر اور الیکٹرانک جنگ: ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بین الاقوامی مالیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے
حالیہ صورتحال
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران کا جوہری خطرہ ختم نہیں ہو جاتا**۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے کیے جائی
یہ تنازعہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، اور عالمی برادری اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔ صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اور مزید پیش رفت جلد متوقع ہے۔