وزیربلدیات سندھ کی زیر صدارت مخدوش اور خطرناک عمارتوں کےحوالےسے بنائی گئی کمیٹی کااجلاس ہوا ۔ کراچی سمیت سندھ بھرمیں588مخدوش،59انتہائی مخدوش عمارتوں سمیت دیگر پر تبادلہ خیال ہوا۔
کمشنرکراچی کی رپورٹ کے مطابق 59انتہائی مخدوش میں سے29عمارتوں کوخالی کرالیاگیا،رہائشیوں کاڈیٹامرتب کرلیاگیا ۔ باقی مانندہ عمارتوں کوبھی جلدخالی کروایاجارہاہےتاکہ خدانخواستہ کوئی بڑاسانحہ رونمانہ ہو ۔ تمام خطرناک عمارتوں کا سروے کروایا جائے،شکایات مل رہی ہیں کچھ عمارتوں کوغلط خطرناک قراردیاگیا ۔ تمام ڈپٹی کمیشنرز کی نگرانی میں اضلاع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل ہیں ۔آباد، پاکستان انجنئیرنگ کونسل اور پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹ اینڈ ٹاون پلاننرزکےنمائندےشامل ہیں ۔ سعید غنی کا کہنا ہے یہ سروے تیزی سے مکمل کیا جائے اور اس کی رپورٹ اس کمیٹی کےآئندہ اجلاس میں پیش کی جائے ۔ پہلے مرحلہ میں متاثرہ بغدادی لیاری کی عمارت کے متاثرین اور جو 29 عمارتیں کروائی گئی ہیں ۔ ان کے مکینوں کو 3 ماہ کا کرایہ سندھ حکومت ادا کرے گی ۔ اس کے بعد پگڑی اور مالکانہ حقوق کے مکینوں کے لئے مذکورہ کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی ۔ جس کے تحت ان کو معاوضہ یا دیگر مراعات فراہم کی جائیں گی ۔ خطرناک عمارتوں کے حوالے سے سندھ حکومت انتہائی سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ پبلک سیکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹرز کے اسٹیک ہولڈرز سے بھی تجاویز طلب کی گئی ہیں ۔ ماہرین،انجنئیرز،پبلک وپرائیویٹ سیکٹرز کی جانب سےتجاویز کی روشنی میں شارٹ اور لانگ ٹرم پالیسی مرتب کی جائےگی ۔ کمیٹی سروے کےبعدفیصلہ کرےگی عمارتوں کےکرایہ داروں،پگڑی اورمالکانہ حقوق والوں کوکس طرح آبادکیاجائے ۔ عمارتوں کومعمولی یااس سےزائدمینٹیننس کےبعدرہائش کےقابل بنائےجانےکےحوالےسےبھی کمیٹی رپورٹ پیش کرےگی ۔ ڈپٹی کمیشنرز کی سربراہی میں بننےوالی کمیٹیاں روزکی بنیاد پرسروے کی رپورٹ کمیشنر کراچی کے پاس جمع کروائیں گی ۔ جو اس حوالے سے مذکورہ کمیٹی کے اجلاس میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کریں گے۔