حیدرآباد
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 31 جولائی تا یکم اگست 2025ء کو اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں عوامی تحریک کا وفد مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری کی قیادت میں شرکت کرے گا۔ وفد میں عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ راحیل بھٹو، اور مرکزی رہنما ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی شامل ہوں گے۔
عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، مرکزی میڈیا سیکریٹری کاشف ملاح، مرکزی رہنما سروان جتوئی، نور نبی پلیجو اور ممتاز کھوسو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں عوامي تحريک کی جانب سے کارپوریٹ فارمنگ، نئے ڈیموں، نہروں، وسائل کی لوٽ مار، کرپشن، 26ویں آئینی ترمیم، پیکا ایکٹ اور لاقانونیت کے خلاف مؤقف پیش کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے کہا کہ سندھ سمیت ملک کی مظلوم قوموں کی زمین، معدنی وسائل، پانی اور حقِ حاکمیت پر قبضہ کرنے کے لیے ملک کے آئین کو بالواسطہ طور پر معطل کر کے بدترین مارشل لاء نافذ کیا گیا ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ 2023ء جیسے کالے قوانین کے ذریعے ایس آئی ایف سی قائم کر کے "ون یونٹ" کو دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ سندھ سمیت تمام مظلوم قوموں کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے خاتمے، 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا ایکٹ کے خلاف اور جمہوریت، آئین و قانون کی بحالی کے لیے ہر فورم پر جدوجہد کی جائے گی۔ عوامی تحریک گزشتہ تین سالوں سے کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ مظلوم قوموں کا قاتل، آئین کی توہین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی منصوبہ ہے۔ ملک کا ہر باشعور شہری کارپوریٹ فارمنگ جیسے عوام دشمن فیصلوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔