پشاور ہائیکورٹ میں ملٹری کورٹ کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت، فیصلہ محفوظ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

پشاور ہائیکورٹ میں ملٹری کورٹ کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت، فیصلہ محفوظ

پشاور ہائیکورٹ میں ملٹری کورٹ کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت، فیصلہ محفوظ

پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں ملٹری کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت مکمل کر لی گئی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے مؤکل کو وکیل کرنے کا حق نہیں دیا گیا اور وہ پشاور سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ وکیل نے مزید بتایا کہ درخواست گزار 28 جولائی 2021 کو لاپتہ ہوا تھا اور 28 جون 2022 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سماعت کے دوران اہم نکات:

جسٹس ارشد علی نے سوال اٹھایا: "یہ کون سی جیل میں ہے؟" جس پر وکیل نے جواب دیا: "پشاور سینٹرل جیل"۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور عدالت میں جواب جمع کروا دیا گیا ہے جس سے تمام نکات واضح ہو جائیں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی ترمیم کی گئی ہے؟ جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح ہدایت دی تھی کہ سزا کے خلاف اپیل کا حق دیا جائے۔

بینچ نے نشاندہی کی کہ ملٹری کورٹ میں اپیل کا حق اور وکیل کی سہولت بنیادی قانونی تقاضے ہیں۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ چند روز میں سنائے جانے کی توقع ہے۔ یہ کیس ملٹری کورٹ کے فیصلوں پر عدالتی نظرثانی کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔