تاریخ: 28 اکتوبر 2025
مقام: میمونہ اسپتال، کراچی
متاثرہ فرد: غنی امان چانڈیو، چیف آرگنائزر – سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن
واقعہ
غنی امان چانڈیو اپنی جڑواں بیٹیوں کی عیادت کے لیے کراچی کے نجی اسپتال آئے تھے۔ ان کی بہن سندھو امان کے مطابق، رینجرز اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اسپتال کا محاصرہ کیا، سی سی ٹی وی سسٹم اپنے قبضے میں لیا، اور غنی امان کو زبردستی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا
سندھ ہائی کورٹ کی کارروائی
30 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ میں غنی امان کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 نومبر تک جواب طلب کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ غنی امان کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے اسپتال سے اغوا کیا گیا، جبکہ ان کے نومولود بچے زیر علاج تھے ۔
وکلا نے اس واقعے کو "جمہوری سیاسی عمل پر حملہ" قرار دیا۔ وکلاء نے کہا کہ ریاستی ادارے پرامن سیاسی کارکنان کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ عمل آئین و قانون کے خلاف ہے
• سول سوسائٹی کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ جبری گمشدگی آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) کی خلاف ورزی ہے، اور ریاستی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
سندھ میں 2025 کے جبری گمشدگیوں کے اعداد و شمار
• مارچ 2011 سے اگست 2025 تک انکوائری کمیشن کو 10,618 کیسز موصول ہوئے، جن میں سے 8,873 نمٹائے جا چکے ہیں
• 2025 کے صرف اگست میں کمیشن نے 103 کیسز نمٹائے
• سندھ میں 2025 کے دوران درجنوں کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور کمیشن کے اعداد و شمار میں تضاد پایا گیا ہے۔ کئی کیسز کو "بوگس" قرار دیا گیا، جبکہ کچھ افراد کو اشتہاری مجرم قرار دے کر فہرست سے نکال دیا گیا
غنی امان چانڈیو کی گمشدگی نہ صرف ایک فرد کا معاملہ ہے بلکہ یہ جمہوری حقوق، آئینی تحفظات، اور ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد کی علامت بن چکی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت اور سول سوسائٹی کی آواز اس بات کا ثبوت ہے کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔