موجود دور میں
انسانوں کو سب سے بڑا چیلنج جو ہے وہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے.
دنیا بھر میں مختلف ممالک اس اثرات سے بچنے
کےلیے مختلف اقدامات کررہے ہیں ۔
دنیا بھر میں
درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا جارہاہے جو ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہاہے۔
موسم کی شدت ، گرمی کی لہر ، بارشیں اور طوفان
کا بار بار آنا ، انکی شدت میں اضافہ ہونا انسانی زندگیوں کے لیے ذریعہ معاش کے
لیے نقصان کا باعث ہوسکتی ہے۔
سی او پی 26
کا آغاز اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں کیاگیا تھا جو اقوام متحدہ کی ماحولیاتی
تبدیلی کانفرنس دو ہزار اکیس تھی۔
جس میں 2030
تک دو سو ممالک کےنمائندوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ماحول کی بہتری کےلیے کیا اقدامات
کرینگے۔ جس سے موسمیاتی تبدیلی سے بچا جاسکتاہے۔
دنیا بھر میں
موسم کی شدت سے بچنے کےلیے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں.
لیکن ہمارے یہاں قدرتی ماحول کو مزید نقصان پہنچانے
کا عمل جاری ہے ۔
جس میں جنگلوں
کی کٹائی ، بلڈرز مافیاں کی نئی اسکیمیں
شامل ہیں۔
ان اسکیموں میں نہ صرف پاکستان بلخصوص سندھ کو بھاری نقصان پہنچایاہے۔ جس میں مبینہ طورپر بحریہ ٹائون کا نام سر فہرست ہے۔ حال ہی میں نیشنل کیرتھر پارک کی زمینوں پر قبضے اور ذیادہ اراضی حاصل کرنے کا ایشو ان دنوں زبان زد عام ہے۔
امام
علی ضلع جامشورو کےمقامی باشندے ہیں ان کا
کہناہے کہ ہم آبائواجداد سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔
یہ ہمارا گائوں نہ صرف قدیم ہے بلکہ ہماری زندگی
کا واحد ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے بحریہ ٹائون کے بارے میں بتایا کہ پہلے تو وہ کسی سے بات بھی نہیں کرتے تھے صرف خاموشی سے زمینوں پر قبضہ جاری تھا ۔
جب
علاقہ مکینوں نے شدت دیکھائی تو کہنے لگے کہ اس علاقے کے لحاظ سے زمین کو بیچے ہم
آپ کو اس کے بدلے رقم فراہم کرینگے۔
اب
تک ہماری یہاں سے چار سےپانچ سو ایکڑ زمین یہ ہم سے لیے چکے ہیں۔
جس کے بدلے انہوں نے اب تک پیسے بھی نہیں دیئے اور کہا گیا تھا کہ آپ کو چار سے پانچ دن میں رقم ادا کردی جائیگی ۔
ہم زمین بیچنا ہرگز نہیں چاہ رہے تھے لیکن مقامی وڈیروں کایہ کہنا تھاکہ زمین سے بھی
جائو گے اور رقم سے بھی تو بہتر یہی ہے کہ رقم لو اور آگے بڑھو ۔
اس میں مسئلہ یہ آرہاہے جیسے جسے بحریہ ٹائون آگے بڑھ رہاہے اس بیچ میں ہمارا گائوں بھی آرہاہے بعد میں یہ کہیں گے رقم لو اور یہ علاقے بھی چھوڑ دو تو ہم یہاں پر صدیوں سے آباد ہےاور ہمیں زمین سے اس بےدردی کے ساتھ الگ کیاجارہاہے۔
جسے ہم یہاں کے مقامی لوگ ہی نہیں ہے۔
حفیظ بلوچ انڈیجینس
رائٹ الائنس کے ساتھ گزشتہ کئی برس سے کام کام کررہے ہیں ۔
انکا کہناہےکہ بحریہ ٹائون کا ڈسٹرکٹ جام شورو میں جتنی بھی تعمیرات ہے سب غیر قانونی ہے پاکستان کے قانون کے تحت ۔
یہ
کیرتھر نیشنل پارک ہے یہاں جنگلی حیاتیات
کی زندگی کو خطرہ ہے۔
یہاں
آپ درخت نہیں کاٹ سکتے ہیں ۔
لیکن یہاں بڑے تعداد میں درخت کاٹ دیئے گئے ۔ مائننگ نہیں کرسکتے ہیں لیکن یہاں سے ریت بجری بڑی مقدار میں نکال کر بحریہ ٹائون کی تعمیرات میں استعمال کی جارہی ہے
۔
جنگلی حیاتیات
کا علاقہ غیر قانونی ہے تحفظات اپنی جگہ ہے
نیشنل پارک
پروٹکٹڈ ایریا درخت کاٹ نہیں سکتے ہیں نہ مائننگ کرسکتے ہیں
کنسٹریکشن بھی نہیں کرسکتے ہیں ہر طرح سے غیر قانونی ہے جس طرح سے بھی آپ اسے کہیں۔
کیر تھر کے علاقہ مکین کہتے ہیں کہ ہم اپنی زمینیں بیچنا نہیں چاہتےہیں لیکن ایک سیاسی جماعت کے وڈیرے ہم پر دبائو اور ڈالتے ہیں جس میں مختلف سنگین نتائیج کی دھمکیاں دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہم بحالت مجبوری انہیں اپنی زمین بیچ رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات مسعود لوہار اور ڈاکٹر عامر کہتےہیں کہ درخت اور جنگلات ماحول بہتر بنانے کےلیے بےحد ضروری ہیں۔
جنگلات کی سب
سے بڑی خصوصیت یہ بھی ہےکہ ان کی وجہ سے بارش برسانے والا سسٹم بنتا ہے۔ جو کہ
ماحول کے لیے انتہائی مفید ہے۔
سینئر
صحافی ماحولیات سید سبط حسان رضوی کہتےہیں
کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے چند دہائیوں سے ہم نے کئی پودوں اور جانوروں کی
نسلوں کو کھودیاہے۔
فوزیہ جمیل
ماحولیاتی ایکٹوسٹ کہتی ہیں کہ جنگلات
درخت پودے زندگی سے جڑے ہیں انکو کاٹنا ختم کرنا زندگی کو ختم کرنا ہے زراعت اجتماع اور ادویات جنگلات پر منحصر کرتی ہیں جنگلات کی کٹائی نے معاشرتی
تنازعات اور ہجرت پر لوگوں کو مجبور کیا ہے۔
وائلڈ
لائف کے فوٹوگرافر سلمان احمد بلوچ فلورا اور فونا پر کام کرتے ہیں ۔
انکے
ریکارڈ جمع کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ سندھ انڈیجینس رائٹ الائنس سے ہے۔
کہتےہیں
کہ جس مقام پر میں کھڑا ہوں یہ کیر تھر نیشنل پارک کاحصہ ہے۔
آپکو ارد گرد نظر آرہاہوگا کہ یہاں پر ریتی بجری
مافیاں ساری چیزیں اٹھا اٹھا کر جارہے ہیں۔
کس
طرح کیر تھر پارک کی ریتی بجری نکال کر اسے نقصان پہنچایا جارہاہے
پورے
کیر تھر پارک کو اس طرح کھود کھود تباہ برباد کیاگیا ہے،
بحریہ
ٹائون جن ایریاز میں قبضہ بحریہ نے کیاہے اور جو پہاڑی سلسلے جو ندی نالے اس نے
اپنے پلاٹس اور بنگلوز بنائیں۔
ابھی جو اپنے طور پر جو انہوں نے ایک سروے کیاہے
جو کہ لیمٹڈ سروے ہواہے۔
جس
میں 20 ہزار ایکڑ آیاہے
جس
میں ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ 30 سے 40 ہزار ایکڑ پر ہے۔
اس کے علاوہ بہت ساری ڈیمز ہے جو کہ ریکارڈ پر
نہیں ہے
جیسے یہ سینڈ مائنگ ہے اس سے پورے کیر تھر پار
کی ایکولو جی کو آپ تباہ کررہے ہیں۔
اس
سے واٹر لیول ڈائون ہوجائےگا ۔
یہاں کی ریتی یہاں کی خصوصیت ہے جو یہاں سے پانی
نکلتا ہے وہ انڈر گرائونڈ واٹر کو ری فل کرتاہے۔
اور سارا سال پانی یہاں پر رہتاہے یہ تھڈو ریور
کا ایریا ہے اور اسے لاہوتی پکنک پوائنٹ کہا جاتاہے۔
آپ
گوگل پر سرچ کرینگے یو ٹیوب پر سرچ کرینگے تو بہت ساری آپ کو اس کی ویڈیوز مل
جائےگی ۔
بہت
ہی خوبصورت علاقہ تھا جس کو بحریہ میٹریل کےلیے یہاں ڈیمج کیا گیا ہے۔
اس کے بلکل برابر میں بحریہ نے ٹیک اوور کیاہے۔
کیر
تھر نیشنل پارک کا جو بورڈ ہے جو پہلے میں بتا چکاہوں۔
یہ چند گھروں کی ہائوسنگ سوسائٹی کا ایشو نہیں ہے۔
یہ
ایک بہت بڑا ایریاہے ہم بات کرسکتے ہیں یہ سیکنڈ کراچی جتنا ایک جوائنٹ میگا سٹی
کریٹ کررہےہیں۔
ایک ایسے علاقے میں جو ایکولوجیکل اہم ایریاہے ہمارا مدعا یہی ہے کہ زمین کے حصول کےلیے بات نہیں کی جائے اس ماحولیاتی تباہی پر بھی بات کی جائے اور انکو بھی ریکارڈ کیا جائے تاکہ یہ بات بھی لوگوں کو معلوم ہوسکے۔
ہم
جس دور سے گزررہے ہیں اس میں موسمیاتی تبدیلیوں کی بات ہورہی ہے۔
ہم
کہہ رہےہیں وہ تباہی روکی جائے
کیرتھر
نیشنل پارک کراچی جیسے میگا سٹی کی انوائرمنٹ کو بیلنس کرنے کی جگہ رکھتاہے۔
یہ اہم گرین بیلٹ ہے اس پورے گرین بیلٹ کو جس
طرح تباہ کیاگیا یہ پورا خطہ زمین گرین تھا
ہر جگہ درخت ہی درخت موجود تھے
جس
کو بحریہ نے ٹیک اوور کرنے کے بعد سارے درخت کاٹ کر اس گرین بیلٹ کو تباہ کیاہے۔
اس
میں دو چار چیزیں ہیں کراچی کا ایئر کوالٹی انڈیکس جو ہے وہ بہت ہی ذیادہ خراب ہے
اس
وقت دنیا کے خراب ترین ایئر کوالٹی میں کراچی کا شمار ہونے لگا ہے
اس وقت کراچی کے ماحول کے حوالے سے ان گرین پیچز
کا بہت اہم کردار ہے
اگر گرین پیچز یا سبزہ ہوگا تو ایئر کوالٹی بہتر
ہوسکے گی پہلے سے ہی ہمارا ماحول تباہ ہورچکا ہے
رہی سہی کثر بحریہ ٹائون جیسے منصوبوں نے پوری
کررکھی ہے
جس
سے ہمیں کل کو سانس لینے میں مسئلہ ہوگا ۔ لوگ بیمار ہونا شروع ہوجائے گے لوگوں کی
اوسط عمر میں کمی آسکتی ہے۔
مزید
خراب ہوگا تو یہ ذیادہ تباہی کی جانب جائےگا۔یہاں پر گرمی کا تناسب جو ہے ابھی بھی
دو سیلیس کا فرق آیاہواہے دنیا میں ایک سیلیس کا فرق آیا ہواہے تو رو رہے ہیں
اور جنگلات کی کٹائی کے بعد یہ فرق اور بڑھے گا ۔
کنکریٹ
کے جنگلات بنانے سے ہیٹ مزید بڑھے گی کیونکہ سیمنٹ ہے سیمنٹ آپ جتنا استعمال کرینگے
اس سے کیا ہوگا یہ درجہ حرارت مزید بڑھےگا۔
کراچی
کو ٹھنڈا رکھنے کےلیے ہمیں گرین اسپیسز کو ختم کردیا ہے۔
جو
ملیر بچاتھا اس پر ملیر ایکسپریس وے بنا کر بہت بڑے پیچ کو تباہ کردیا گیا ۔
بہت بڑے گرین بیلٹ کو تباہ کردیاگیا ۔
کراچی کچھ وقت کے بعد مجھے لگتاہے کہ وہ رہنے کے
قابل تو نہیں ہوگا
ہر
بندے کو ماسک لگانا ہوگا ۔بچے باہر نہیں نکل پائے گے۔ آپ کو گھر کے اندر ہی
حفظاتی انتظامات کرنےپڑے گے۔ اور بہت کچھ کرناپڑے گا اپنی زندگی بچانے کےلیے۔
27 نومبر 2023 سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن
کراچی کیس میں حکم نامہ جاری کردیا۔
سپریم
کورٹ نے برطانیہ سے آئی ملک ریاض کی رقم ریاست پاکستان کے حوالے کر دی۔
یہ رقم
برطانیہ میں قانونی کاروائی کی وجہ سے منجمد تھی۔
عدالتی حکم کے مطابق یہ فیصلہ نیب کی ان معاملات
میں جاری تحقیقات اور کارروائی پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتا۔
بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا حکمنامہ جاری کردیا گیا۔
سپریم کورٹ نے بیرون ملک سے آئے 35 ارب روپے
وفاقی حکومت کو دینے کا حکم دے دیا۔
بحریہ ٹاؤن نے ابھی تک پینسٹھ ارب روپے سپریم
کورٹ میں جمع کرائے۔
ان میں پینتیس ارب روپے 190ملین پاؤنڈز ہیں۔
جو برطانیہ میں منجمد اکاؤنٹ منجمد اکاونٹ کی
بحالی کے بعد پاکستان آئے۔
بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع کرائے گئے باقی 30
ارب روپے سندھ حکومت کو دینے کا حکم دیا گیا۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ بظاہر بحریہ ٹاؤن زیادہ
اراضی پر قابض ہے۔
بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی
روکی۔
بحریہ ٹاؤن نے صرف ادائیگیاں نہیں روکیں بلکہ مزید
زمین پر بھی قبضہ کیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے تین ہزار ایکڑ
سے زائد اراضی پر قبضہ کیا۔
لوگ زمین کا ایک ٹکڑا خریدنے کیلئے عمر بھر کی
جمع پونجی لگاتے ہیں۔
سب خرچ کرنے کے بعد بھی ڈویلپر کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔