ڈیجیٹل میڈیا نکتہ پاکستان سیٹ اپ بند،137 میں سے 37 افراد کو فارغ کرنے کا فیصلہ — صحافت کے خواب چکنا چور

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

ڈیجیٹل میڈیا  نکتہ پاکستان سیٹ اپ بند،137 میں سے 37 افراد کو فارغ کرنے کا فیصلہ — صحافت کے خواب چکنا چور


کراچی: پاکستان کے واحد جدید ڈیجیٹل میڈیا سیٹ اپ "نقطہ 137" میں کام کرنے والے 37 افراد کو ایک ماہ کے نوٹس کے بعد فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ادارے کے اندر بلکہ پورے میڈیا انڈسٹری میں تشویش کی لہر دوڑا گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، ہیڈ آفس سمیت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے تمام بیوروز سے اسپورٹس ڈیسک، پروڈیوسرز، ایڈیٹرز، کیمرہ مین اور اینکرز سمیت دیگر اسٹاف کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ ایک ماہ بعد یہ تمام افراد مکمل طور پر ادارے سے الگ ہو جائیں گے۔ انہیں گریجویٹی فراہم کی جائے گی، مگر روزگار کا متبادل نہ ہونا ان کے لیے ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔

یہ سیٹ اپ جسے پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت کی نئی پہچان سمجھا جا رہا تھا، چلنے سے پہلے ہی بند ہو گیا۔ اس بندش نے نہ صرف ادارے کے ملازمین بلکہ پورے ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کو مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے یہ فیصلہ کسی صدمے سے کم نہیں۔ کامران خان جیسے سینئر صحافی کی سربراہی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ، اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو بہتر مستقبل دینے میں ناکام رہا۔

صحافت کے دعوے، آزادی اظہار کے نعرے، اور ڈیجیٹل انقلاب کے خواب — سب دعوے کے دعوے ہی رہ گئے۔ جن چہروں نے اس پلیٹ فارم کو جان دی، آج وہی چہرے بے یقینی اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے: کیا میڈیا ادارے صرف تجربات کی بھینٹ چڑھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں؟ کیا صحافت صرف نعرہ ہے، یا اس کے پیچھے انسانوں کی زندگی بھی اہمیت رکھتی ہے؟

ڈیجیٹل میڈیا کے اس بندش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ استحکام کے بغیر خواب صرف خواب ہی رہتے ہیں۔