تقسیم کار کمپنیوں کا بغیر منظوری اے ایم آئی میٹرز نصب کرنے کا انکشاف، نیپرا کا نوٹس
اسلام آباد: تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ریگولیٹر کی منظوری کے بغیر 40 لاکھ سے زائد اے ایم آئی میٹرز نصب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیپرا نے اربوں روپے کے اس سرمایہ کاری منصوبے پر نوٹس لیتے ہوئے وضاحت طلب کر لی ہے۔
کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ منصوبہ وزارت توانائی کی ہدایت پر شروع کیا گیا۔ حکام کے مطابق سادہ میٹر کی قیمت 5 ہزار جبکہ اے ایم آئی میٹرز 20 ہزار روپے تک چارج کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن سے کیسکو کی ریکوری 30 سے 60 فیصد تک بڑھی، تاہم 322 ملین روپے کے کٹوتی چارجز میں سے صرف 32 ملین (10 فیصد) وصول کیے جا سکے۔
نیپرا نے کیسکو ریجن میں 2188 خراب میٹرز کی تبدیلی میں تاخیر اور صرف 1.8 فیصد ریکوری پر سوال اٹھایا ہے۔ کیسکو حکام نے زیر التوا درخواستوں کو آئندہ ماہ تک نمٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
دوسری جانب، نیپرا نے حیسکو کی جانب سے فکسڈ نیٹ ورک چارجز یا گراس میٹرنگ فریم ورک نافذ کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ حیسکو میں پیش آنے والے حادثات اور عوامی غفلت پر نیپرا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اندرونی تحقیقات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔