کراچی سٹی کونسل کا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ میئر کراچی نے اپوزیشن لیڈر کو نیپا سانحہ پر گفتگو سے روک دیا۔ اپوزیشن کا شور شرابہ۔ اجلاس پچاس منٹ میں ختم ہوگیا۔
سٹی کونسل کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے ارکان نے شدید نعرے بازی کی ۔ ایوان ظالموں جواب دو ظلم کا حساب دو کے نعروں سے گونج اٹھا۔ میئر کراچی نے اپوزیشن لیڈر کو نیپا سانحہ پر بات کرنے سے روک دیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن کرم اللہ وقاصی نے کہا واٹر کارپوریشن نے سب سے زیادہ مین ہول کے ڈھکن یوسی چیرمینز کو دیئے۔ میئر کراچی شہر میں کام کررہے ہیں۔جب اصلاحات کی بات کی تو چھ سو گلیوں کا کام شروع کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چیف وہپ مسرت خان کا کہنا تھا جس ماں کی گود اجڑی ہے،، اس کے ساتھ ہوں۔ لیکن اس معاملے پر سیاست ٹھیک نہیں۔ میئر کراچی کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ سٹی کونسل میں بولٹن مارکیٹ کی تیسری منزل اولڈ سٹی ایریا پر چارجڈ پارکنگ کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی قرارداد منظور کرلی گئی۔بس ٹرمینل گلشن غازی بلدیہ ٹاؤن،، پارکنگ مقاصد کےلئے کرائے پر دینے کی قرارداد کی بھی منظوری دی گئی۔ ایوان نے کاروباری علاقوں کے ارد گرد فٹ پاتھوں کی بہتری اور دیگر تزئین و آرائش کے کاموں کی قرارداد بھی منظور کرلی۔ محض پچاس منٹ بعد میئر کراچی مرتضی وہاب نے اجلاس ملتوی کردیا۔ اپوزیشن ارکان نے اقدام پر شدید نعر ے بازی کی۔