“لياری گينگ وار پارٹ ٹو ، عزير بلوچ کا کردار “ "پيپلز پارٹی نے رحمان ملک کو وزير داخلہ کيوں بنايا "؟

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

“لياری گينگ وار پارٹ ٹو ، عزير بلوچ کا کردار “


تحرير :رفعت سعيد

رحمان ڈکيت کے بعد عزيز بلوچ کا "انکاؤنٹر

 "کرنے کے احکامات کيوں اور کس نے ديئے ؟؟

پيپلز پارٹی کے کسی رہنما اور قيادت  نے نہ رحمان ملک کے جنازے  ميں شرکت کی اور نہ تعزيت کی  ؟

کراچی کی قدیم بستی لیاری اور سے ملحقہ گنجان آبادی والے علاقوں ميں کئی “گينگسٹرز اور گینگ وار” کے کارندوں کی ہلاکتوں کے بعد بھی امن بحال نہيں ہورہا تھا ،

اس وقت کے وفاقی وزير داخلہ رحمان ملک پيپلز پارٹی کی طرف سے حکومت کی اتحادی ايم کيو ايم اور الطاف حسين کے سہولت کار تھے ، 

ايک روز جب لياری کے حالت بہت خراب ہوئے اور وزیر داخلہ ہر ہفتہ کراچی آنے لگے تو ميں نے ان سے دريافت کيا کہ ، آخر آپ الطاف حسين کی سہولت کاری کيوں کرتے ہيں ؟ 

 تو انہوں نے بتايا کہ ،پيپلز پارٹی کی حکومت بنے کے معاہدے ميں وہ بطور فوکل پرسن ، “نذرانہ” پہنچانے کے علاوہ مقامی سياسی تنازعات کو حل کروانےکے  بھی ذمہ داری ہيں  ،

مگر رحمان ملک نے بتايا کہ  صدر زرداری کے قريبی دوست ڈاکٹر ذولفقار مرزا کے لياری گينگ وار کے نئے سربراہ عزير بلوچ سے رابطے اورگينگسٹرز کی سرپرستی کی وجہ سے ، الطاف حسين حکومت سے سخت ناراض ہيں ، 

رحمان ملک نے بتايا کہ عزير بلوچ ايم کيو ايم کے لڑکوں کو اغوا کر کے قتل کروا رہا ہے ،

رحمان ملک نے جب الطاف حسين کی ناراضگی کی بابت ، صدر زرداری کو آگاہ کيا تو انہوں نے لياری گينگ وار کے ڈان اور اسکے گروپ کو “صاف “کرنے کے احکامات دے ديئے ، جسکے بعد

وزير داخلہ رحمان ملک نے اعلی پوليس افسران کا ايک اجلاس اسٹيٹ گيسٹ ھاؤس ميں طلب کيا ، اور ایک بار پھر لياری آپريشن کا ٹاسک چودھری اسلم کو دے ديا، کيونکہ چودھری اسلم نے ہی رحمان ڈکيٹ کو ہلاک کيا تھا اسی لئے ، عزير بلوچ ، بابا لاڈلا، جھينگو ،غفار ذکری ، ظفر بلوچ ، حبيب جان کو زندہ يا مردہ گرفتار کرنے کا حکم بھی دے ديا، جسکا واضح مطلب انکاؤنٹر ہی تھا 

دلچسپ بات يہ ہے کہ پيپلز پارٹی خصوصی طور پر صدر زرداری نے آخر رحمان ملک کو ہی وزير داخلہ بنانے کا فيصلہ کيوں کيا؟؟

اسکا جواب يہ ہے کہ بعض مغربی ممالک کے خفيہ اداروں سے انکے تعلقات ، ايف آئی اے کے ڈی جی مقرر ہونے کے بعد بہت مستحکم ہو گئے تھے، انکی امريکی سی آئی اے اور ايف بی آئی سے گہرے مراسم کی وجہ سے ہی پيپلز پارٹی کی قيادت انہيں وزارت داخلہ جيسی اہم وزارت دينے پر مجبور ہوئے 

، جب صدر زرداری اپنی پہلی مدت ميں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے بطور صدر پہلی مرتبہ امريکہ گئے تو ميں بھی اتفاق سے اس اہمُ دورے کو کور کرنے کے لئے نيويارک جارہا تھا ، 

جب دوبئی سے طيارہ نيويارک روانہ ہونے لگا تو ، آخری لمحات ميں ، بنگلہ ديش کی سابق وزير اعظم شيخ حسينہ واجد اور پاکستانی وزير داخلہ رحمان ملک جہاز ميں سوار ہوئے ، 

نيويارک پہنچنے پر رحمان ملک کے استقبال کے لئے سی آئی اے اور ايف بی آئی کے اہلکار جے ايف کے پر  موجود تھے

تھوڑی دير لاؤنج ميں انتظار کے بعد سعودی انٹيلجنس چيف بھئ پہنچ گئے جسکے بعد دونوں ائیرپورٹ سے روانہ ہوگئے ، 

اب اس تعلق کی بنا پر آپ کو پيپلز پارٹی کی حکومت ميں رحمان ملک کو وزارت داخلہ کا قلمبدان سپرد کرنے کی وجوہات ضرور سمجھ آگئی ہونگی ، مگر افسوسناک پہلو يہ ہے کہ پارٹی کے لئے خدمات کے باوجود ، صدر آصف زرداری نے رحمان ملک کو نظر انداز کرنا شروع کر ديا تھا ، حيرت انگيز طور پر انکی وفات پر  صدر زرداری انکے خاندان اور پارٹی کے کسی رہنما نے نہ تعزيت کی اور نہ کوئی انکے جنازے ميں شريک ہوا ،اسی لئے تو کہتے ہيں ، "سياست بڑی سفاک "ہوتی ہے  اب واپس چلتے ہيں لياری گينگ وار آپريشن کی طرف ، تفصيلات اگلی قسط ميں 🙏🏼