پاکستان آج جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں معاشی بحران اور ماحولیاتی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی، توانائی کی کمی اور قرضوں کا دباؤ ہے، تو دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے انسانی زندگی، معیشت اور قدرتی وسائل کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب، لاہور اور کراچی کی طویل اسموگ، اور ہر سال شدت اختیار کرتی گرمی کی لہریں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ اگر ترقی کے پرانے طریقے نہ بدلے گئے تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے “پاکستان گرین ٹیکسونومی 2025” متعارف کروائی ہے۔ یہ محض ایک مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسا جامع روڈ میپ ہے جس کا مقصد معیشت کو ماحول دوست، قابلِ بقا اور محفوظ بنیادوں پر آگے بڑھانا ہے۔ اس کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ترقی کیسے ہو، مگر ایسی ترقی جو ماحول کو تباہ نہ کرے بلکہ اسے محفوظ بنائے۔
گرین ٹیکسونومی: تصور کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
سادہ الفاظ میں سمجھیں تو گرین ٹیکسونومی ایک درجہ بندی کا نظام ہے جو واضح کرتا ہے کہ کون سا منصوبہ یا کاروباری سرگرمی واقعی ماحول کے لیے فائدہ مند ہے اور کون سی سرگرمی فطرت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ماضی میں یہ مسئلہ رہا ہے کہ ہر منصوبہ خود کو “گرین” کہتا تھا، مگر اس دعوے کو جانچنے کا کوئی واضح معیار موجود نہیں تھا۔ نتیجتاً ماحول دوستی ایک نعرہ بن کر رہ گئی۔
اسٹیٹ بینک نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے جنوری 2024 میں اس فریم ورک پر کام شروع کیا اور 2025 کا ایڈیشن ماہرین، صنعتکاروں، بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشاورت سے مکمل کیا گیا۔ اس دستاویز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ سائنسی بنیادوں پر تیار کی گئی ہے لیکن اسے پاکستان کے زمینی حقائق کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
سرمایہ کاری کے لیے ٹریفک لائٹ سسٹم
اس دستاویز کو سمجھنے کے لئے بہت ہی دلچسپ ، سادہ مگر مؤثر طریقہ اپنایا گیا ہے، جسے ٹریفک لائٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت ہر سرگرمی کو سبز، زرد یا سرخ درجے میں رکھا گیا ہے۔سبز درجے میں وہ سرگرمیاں شامل ہیں جو ماحول کو واضح فائدہ پہنچاتی ہیں، جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ۔ یہ وہ منصوبے ہیں جو عالمی حدِ درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف سے ہم آہنگ ہیں۔زرد درجے میں وہ شعبے رکھے گئے ہیں جو ابھی مکمل طور پر ماحول دوست نہیں مگر بہتری کی سمت گامزن ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی صنعتیں جو کوئلے یا تیل کے بجائے کم نقصان دہ ایندھن کی طرف منتقل ہونا چاہتی ہیں۔ ان کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے تاکہ وہ 2030 تک خود کو ماحول دوست بنا سکیں۔سرخ درجے میں وہ سرگرمیاں شامل ہیں جو ماحول کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور جن میں بہتری کی کوئی حقیقی گنجائش موجود نہیں۔ ایسے منصوبے اب سرمایہ کاری کے قابل نہیں سمجھے جائیں گے۔
پاکستان کے ماحولیاتی اہداف
گرین ٹیکسونومی کے تحت پاکستان نے چھ بڑے ماحولیاتی اہداف مقرر کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی ہے، کیونکہ یہی گیسیں موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجہ ہیں۔ دوسرا ہدف یہ ہے کہ ملک خود کو بدلتے ہوئے موسمی حالات، جیسے سیلاب اور شدید گرمی، کے مطابق ڈھال سکے۔پانی کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا ہے، کیونکہ پاکستان تیزی سے پانی کی قلت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوا، پانی اور زمین کو آلودگی سے بچانا، جنگلات اور مختلف جانداروں کی بقا کو یقینی بنانا، اور کچرا کم کر کے وسائل کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا بھی ان اہداف میں شامل ہے۔
توانائی کا شعبہ: سب سے بڑا چیلنج
پاکستان میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں سب سے بڑا حصہ توانائی کے شعبے کا ہے۔ اسی لیے شمسی، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو مکمل طور پر ماحول دوست قرار دیا گیا ہے۔ ہائیڈرو پاور کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ اس میں کاربن کے اخراج کی ایک مخصوص حد سے تجاوز نہ ہو۔
اس کے برعکس وہ بجلی گھر جو مکمل طور پر کوئلے یا تیل پر چلتے ہیں اور صاف توانائی کی طرف منتقل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے، انہیں سرخ درجے میں رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے منصوبوں کے لیے فنانسنگ حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
صنعت کا بدلتا ہوا منظرنامہ
صنعتی شعبے میں بھی نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سیمنٹ اور اسٹیل جیسی صنعتیں آلودگی کا بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے ان پر اخراج کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ ٹیکسٹائل، جو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، اب اسی صورت ماحول دوست سمجھی جائے گی جب اس میں ری سائیکل شدہ مواد یا ماحول کے لیے بہتر کپاس استعمال کی جائے۔
اینٹوں کے روایتی بھٹوں کی جگہ کم دھواں دینے والی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔
ٹرانسپورٹ اور شہری فضا
شہری علاقوں میں سموگ کی ایک بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہے۔ گرین ٹیکسونومی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں، بسوں اور ٹرینوں کو مکمل طور پر ماحول دوست قرار دیا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بتدریج صاف ایندھن کی طرف منتقل کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے، جبکہ ریلوے اور سمندری مال برداری کے نظام کو بھی کم آلودگی والے ایندھن پر منتقل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
تعمیرات، زراعت اور قدرتی وسائل
تعمیرات کے شعبے میں گرین بلڈنگز کا تصور متعارف کروایا گیا ہے، جہاں نئی عمارتوں کو کم بجلی اور کم پانی استعمال کرنا ہوگا اور تعمیر میں ری سائیکل شدہ مواد شامل کرنا لازم ہوگا۔
زراعت، جنگلات اور ماہی گیری جیسے شعبوں میں کم پانی میں زیادہ پیداوار دینے والے طریقے، درختوں کا تحفظ، نئے جنگلات کا قیام اور سمندروں میں حد سے زیادہ مچھلی کے شکار کی روک تھام کو ماحول دوست سرمایہ کاری کا حصہ بنایا گیا ہے۔
نقصان نہ پہنچانے کا اصول اور سماجی تحفظ
اس دستاویز کی ایک نمایاں خصوصیت “نقصان نہ پہنچانے” کا اصول ہے۔ یعنی کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگا جب تک وہ ماحول کو فائدہ پہنچاتے ہوئے کسی دوسرے قدرتی نظام یا انسانی حقوق کو نقصان نہ دے۔ مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت کی ممانعت اور مقامی آبادی کے تحفظ کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
عام آدمی کی زندگی پر اثرات
گرین ٹیکسونومی کے اثرات براہِ راست عام شہری تک پہنچتے ہیں۔ صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، طویل مدت میں بجلی سستی ہو سکتی ہے، آلودگی میں کمی سے صحت کے مسائل کم ہوں گے، اور کسانوں و گھریلو صارفین کے لیے ماحول دوست منصوبوں پر آسان شرائط پر قرضے دستیاب ہو سکیں گے۔
اختتامیہ
پاکستان گرین ٹیکسونومی 2025 محض ایک پالیسی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کے لیے سمت کا تعین ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر اگر پاکستان کو ماحولیاتی تباہی سے بچانا اور معیشت کو دیرپا بنیادوں پر مضبوط بنانا ہے تو اسی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اصل چیلنج اب اس پر مؤثر عمل درآمد ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حکومت، ادارے، صنعت اور عوام کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔