کبھی کبھی ہمارا پڑھا لکھاسماج اپنے کالے کرتوتوں سے دورِ جہالت کے باسیوں کو بھی مات دے جاتا ہے ۔ ایسی ہی ایک رسم ہمارے ملک کے دیہاتوں میں آج بھی رواں دواں ہے جہاں اکثر اوقات دودھہ پیتے بچوں کو اورعورت کے پیٹ کے حمل کو بھی کسی کے نام سے منسوب کردیا جاتا ہے کہ اگر لڑکی ہوئی توجواں ہوکر فلاں لڑکے سے بیاہ دی جائے گی اور اگر لڑکا ہوا تو اس کی شادی فلاں لڑکی سے ہوگی ۔ تعلیم کے فقدان نے بھی اس رسم کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستانی عورتوں میں تعلیم کی نسبت بیس فیصد بھی مشکل ہے اور اس بیس فیصد میں سے ۵۴ فیصد شہر اور ۵ فیصد دیہات میں پائی جاتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 106 میں سے بمشکل 17 لڑکیاں پہلی کلاس میں داخل کروائی جاتی ہیں۔ تقدیر پرستی سے لیکر توہم پرستی کے دقیانوسی خیالات تک عورت پر سب سے زیادہ ظلم اس لئے ہوتا ہے کہ وہ سماج میں مرد سے کم تعلیم یافتہ اور کم مراعات یافتہ ہے۔ کاروکاری جیسے واقعات زیادہ تر ان پسماندہ علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں تعلیم سب سے کم ہے۔
ایسے علاقوں کے باسی علمی ترقی وسماجی ترویج سے ناواقفیت کے سبب آج بھی ایسے فرسودہ رسوم و رواج کو گلے کا سنگھار بنائے بیٹھے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انسانی کم علمی اور پسماندگی کے سبب یہ رسوم و رواج آج بھی پوری آب و تاب سے زندہ ہیں مثلاً تعویذ و ٹوٹکے، ڈھاگا، پیر پرستی، مرشدی کا ناسور، قبر پرستی وغیرہ جیسی فرسودہ روایات کی پیروی دیہات تو کیا شہر کے اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگوں میں نہ صرف موجود ہے بلکہ پھل پھول بھی رہی ہے۔ یہ بھی ایک ایسی توہم پرستی ہے جس کے اصل محرک حقیقت سے زیادہ چھوٹے عاملوں کے ہتھکنڈوں کی طرح افسانوی ہوتے ہیں۔ اس قسم کی ساری جا ہلانہ توہمات کو جو ہمارے معاشرے میں مذہب اور رسومات کا حصہ بن چکی ہیں سب کی سب کم علمی کی پیداوار ہیں جنہیں علم اور مذہب کی روشنی سے ہی مٹایا جا سکتا ہے۔
ایسی رسومات کے پھلنے پھولنے کی مذہب پر الزام تراشی کا ذمہ دار طبقہ غیر ملکی حمایت یافتہ یا تنخواہ دار ہوتا ہے جن کو غیر ملکی ایجنسیاں اسی بات کے لئے ملازم رکھتی ہیں کہ ملک میں مذہبی قوانین پر نکتہ چینی کرکے الہامی تعلیمات کو بگاڑنے اور مذہب کے نام پر فرقہ پرستی کو ہوا دیگر مزید نئے فرقے پیدا کرکے معاشرے میں دنگا فساد اور افراتفری کے حالات پیدا کرکے عورت اور دوسرے مظلوم طبقوں کے استحصال کا الزام مذہب پر لگایا جائے تاکہ لوگ اس سے بددل ہو جائیں۔ حالانکہ تمام مذاہب اپنی اپنی تعلیمات میں ہر قسم کے اخلاقی ، سیاسی اور سماجی جرائم کی بیخ کنی کرتے نظر آتے ہیں۔
اس رسم کو بڑھاوا دینے میں بڑی حد تک غیر ملکی چینلزاورسینیمائوں میں چلنے والی فحش فلمیں یا ڈاکومینٹریز، چوراہوں پر انگریزی فلموں کے ہیجان انگیز پوسٹرز ، فحش رسالے اورغیر اخلاقی ادب بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے لوگوں کے دلوں میں جنسی انارکی پیدا ہوتی ہے جوکاروکاری ایسے واقعات کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے۔ ہمارے قانون میں قصاص ودیت کے تحت قاتل کو خاص اور ناجائز قسم کی رعایت دی گئی ہے۔ حدود آرڈیننس کے مطابق عورت کو زنا بالجبر ثابت کرنے کے لئے چار بالغ مردوں کی شہادت کی شرط لگاکر خود قانون نے زنا بالجبر کو زنا با رضامندی کے نزدیک لا کرکھڑا کردیا ہے کیونکہ اس طرح تو کوئی بھی عورت اپنے ساتھہ کی گئی زیادتی کو ثابت نہیں کرسکے گی بلکہ الٹا الزام لگانے کے الزام میں اسے اسی کوڑوں کی سزا بھگتنی پڑیگی۔ عورت کے ساتھ زنا کا یہ قانون میرے خیال میں عورتوں کے استحصال کا دوسرا نام ہے کیوں کہ اعدادو شمار کے مطابق ہمارے ملک میں ستر فیصد سے زیادہ عورتوں کو حدود آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک قانونی بگاڑ کی بات ہے کہ کاروکاری کے کیس میں مرنے والوں کی طرف سے وکیل بھی نہیں ہوتا جس سے قاتل کی ضمانت بھی آسانی سے ہوجاتی ہے۔