بھارتی کسانوں کا امریکی تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج
مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف بھارت کے کسان سراپا احتجاج ہیں۔ کسان یونینز نے مجوزہ امریکا-بھارت تجارتی ڈیل کو زراعت اور ڈیری سیکٹر کے لیے "تباہی" اور "مودی سرکار کا سرنڈر" قرار دیا ہے۔
بھارتی جریدے دی ٹائمز آف انڈیا نے بھی اس معاہدے کے تلخ حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں، جس کے بعد کسانوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیر تجارت سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ کسان یونینز نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدے پر دستخط ہوئے تو بھارت کو جام کر دیا جائے گا۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے بھارت کا زرعی اور ڈیری سیکٹر مفلوج ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنا مودی حکومت کی کمزور اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق خارجہ محاذ پر ناکامی اور داخلی بے انتظامی مودی سرکار کا طرہ امتیاز بن چکی ہے۔
کسانوں کے احتجاج نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور یہ معاملہ بھارتی سیاست میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔