برلن: جرمنی کے دفترِ خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے ہمسایوں، خطے اور بحری آزادی کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے۔ جرمن حکام کے مطابق عالمی معیشت کو درپیش اس خطرے کو جاری رہنے نہیں دیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی دنیا بھر میں جھٹکے پیدا کر رہی ہے، اور اگر تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی غذائی تحفظ خطرے میں پڑ جائے گا۔ جرمنی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل سے جاننا ہوگا کہ وہ ایران میں فوجی اہداف کب تک حاصل کرسکتے ہیں، تاکہ خطے کے لیے مشترکہ مستقبل کی سیکیورٹی مرتب کی جا سکے۔
جرمن دفترِ خارجہ کے مطابق اس جنگ کے دور رس اثرات سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اسی تناظر میں لبنان کے لیے 188 ملین یورو کا ہنگامی امدادی پیکج فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں روس کے جنگی خزانے کو بھر رہی ہیں، اس لیے روس پر پابندیاں نرم کرنا بالکل غلط ہوگا بلکہ اس کے برعکس اقدامات کی ضرورت ہے۔