مستقبل کے محافظوں کی تیاری: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماحولیاتی تعلیمی پروگرام 'اسپیلاتھون' کے 29 کامیاب سال مکمل

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

مستقبل کے محافظوں کی تیاری: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماحولیاتی تعلیمی پروگرام 'اسپیلاتھون' کے 29 کامیاب سال مکمل

 


آج کے جدید دور میں جب پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، اور غیر متوقع سیلابوں جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے، تو یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار کر رہے ہیں۔ موسمیاتی بحران محض ایک سائنسی یا حکومتی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اب ہماری روزمرہ زندگی کی بقا کا معاملہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال میں، ماحولیاتی تحفظ کا شعور بچپن سے ہی ذہنوں میں راسخ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) نے  انتہائی موثر تعلیمی مہم کا آغاز کیا، جسے ہم 'اسپیلاتھون' کے نام سے جانتے ہیں۔ حال ہی میں اس شاندار اور منفرد تعلیمی اقدام نے اپنے سفر کے انتیس سال مکمل کر لیے ہیں۔ یہ محض ایک ہجے یاد کرنے کا مقابلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کا وہ سب سے طویل المدتی اور کامیاب اسکول پر مبنی پروگرام ہے، جس نے زبان دانی، تخلیقی سیکھنے کے عمل اور ماحولیاتی خواندگی کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیا ہے۔

 ہماری دھرتی، خاص طور پر پاکستان کے مختلف علاقے، اس وقت شدید ماحولیاتی مسائل کی زد میں ہیں۔ اسموگ سے لے کر جنگلات کی کٹائی اور آبی ذخائر کی کمی تک، ہر مسئلہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنی طرز زندگی کو یکسر تبدیل کریں۔ ماہرین ماحولیات اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک ہم بچوں کے نصاب اور ان کی غیر نصابی سرگرمیوں میں قدرتی ماحول کے بارے میں تفصیلی معلومات شامل نہیں کریں گے، تب تک ہم ایک مضبوط اور محفوظ معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ جب ہم ایک ایسے مستقبل کی بات کرتے ہیں جہاں قدرتی وسائل کا تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے، تو اسپیلاتھون جیسے پروگرام اندھیرے میں امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں، جو بچوں کو فطرت سے محبت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا سکھاتے ہیں۔

تعلیم اور ماحولیات کا انوکھا سنگم

اسپیلاتھون کا باقاعدہ آغاز انیس سو ستانوے میں کیا گیا تھا، جب ماحولیاتی تبدیلی کا لفظ عام لوگوں کے لیے کافی نیا اور اجنبی تھا۔ اس وقت کے منتظمین نے  دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بچوں کو براہ راست خشک سائنسی اصطلاحات سکھانے کے بجائے، اگر ان کی زبان دانی اور ہجے سیکھنے کے عمل کو ماحولیاتی آگاہی کے ساتھ جوڑ دیا جائے، تو نتائج زیادہ بہتر اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ، ہجے اور الفاظ کے کھیل کو ایک ایسے دروازے کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے گزر کر بچے جنگلی حیات، نباتات، اور قدرتی وسائل کے تحفظ جیسے اہم موضوعات کی دنیا میں داخل ہو سکیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف طالب علموں کے لیے دلچسپ ثابت ہوا بلکہ اس نے اساتذہ اور والدین کو بھی ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جس کے ذریعے وہ بچوں سے ماحولیات کے حوالے سے بامعنی گفتگو کر سکیں۔ ابتدائی برسوں میں یہ پروگرام چند مخصوص علاقوں تک محدود تھا، لیکن اس کی افادیت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے اسے تیزی سے وسعت دی گئی۔ تقریباً تین دہائیوں پر محیط اس طویل سفر کے دوران، یہ مہم ایک محدود سرگرمی سے ابھر کر ایک ملک گیر تعلیمی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکی ہے۔

 اس پروگرام کے تحت تیار کیا جانے والا مواد خاص طور پر بچوں کی ذہنی سطح اور ان کے عمر کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس میں شامل کہانیاں، مشقیں اور الفاظ فطرت کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔ بچپن کی عمر میں سیکھے گئے الفاظ ذہن پر گہرا نقش چھوڑتے ہیں۔ جب ایک بچہ اپنے نصاب کے دوران جانوروں کی مختلف اقسام، درختوں کی اہمیت اور پانی کی بچت جیسے الفاظ اور ان کے معنی سیکھتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر ان چیزوں کی قدر کرنا بھی شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مہم روایتی تعلیم سے ہٹ کر ایک عملی اور فکری تربیت کا ذریعہ بن چکی ہے۔ آج یہ پروگرام کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، حیدرآباد، گجرات اور واہ کینٹ جیسے بڑے اور اہم شہروں کے بے شمار تعلیمی اداروں کا مستقل حصہ بن چکا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں بچے اس کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔

ملک گیر رسائی اور اس سال کے نمایاں سنگ میل

کسی بھی تعلیمی مہم کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس حد تک معاشرے کے مختلف طبقات اور علاقوں تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ رواں سال منعقد ہونے والی اسپیلاتھون مہم نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس سال کی مہم میں تین سو سے زائد اسکولوں کے ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد طالب علموں نے حصہ لیا، جس نے اسے اس پروگرام کی تاریخ کا سب سے وسیع اور جامع ایڈیشن بنا دیا۔ اتنی بڑی تعداد میں طلباء کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماحولیاتی تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ اسکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ بھی اب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے والی سرگرمیاں بھی بچوں کی مجموعی نشوونما کے لیے لازمی ہیں۔

 پروگرام کا ڈھانچہ نہایت منظم اور مرحلہ وار ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں بچوں کی کلاس روم کی سرگرمیوں کو باقاعدہ مسابقتی راؤنڈز کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ پہلی سے ساتویں جماعت تک کے طالب علموں کو ان کی عمر کے لحاظ سے ماحولیاتی تصورات سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ نصابی تعلیم اور حقیقی دنیا کی ماحولیاتی آگاہی کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرتا ہے۔ طلباء کتابوں میں جو کچھ پڑھتے ہیں، اسے عملی زندگی اور اردگرد کے ماحول سے جوڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کچرا پھیلانے کے کیا نقصانات ہیں، درخت کاٹنا کس طرح جانوروں کی رہائش گاہوں کو تباہ کرتا ہے، اور پانی کا ضیاع مستقبل میں کتنے بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اس مہم کے دوران بچوں کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے اور انہیں ایسے الفاظ دیے جاتے ہیں جو ماحول دوست اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مسابقتی فضا بچوں میں آگے بڑھنے کی لگن کے ساتھ ساتھ معلومات حاصل کرنے کی پیاس بھی بڑھاتی ہے۔ اسکول کی سطح سے شروع ہونے والے یہ مقابلے علاقائی سطح تک پہنچتے ہیں، اور ہر مرحلے پر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ ان کا جوش و خروش برقرار رہے۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب معلومات کو ایک دلچسپ مقابلے کی صورت میں پیش کیا جائے، تو بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اور اس سال کی مہم نے اس نظریے کو مکمل طور پر درست ثابت کیا ہے۔

لاہور میں سجا قومی چیمپیئن شپ کا شاندار میلہ

اس سال بھر جاری رہنے والی تعلیمی اور معلوماتی مہم کا عروج اس وقت دیکھنے میں آیا جب لاہور کے  علی آڈیٹوریم میں نیشنل اسپیلاتھون چیمپیئن شپ کا  شاندار اختتام ہوا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں پورے سال کی محنت اور لگن اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ اس گرینڈ فینالے میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ بہترین اور نمایاں طالب علموں نے شرکت کی، جو اسکول اور علاقائی سطح کے سخت مقابلوں سے گزر کر اس حتمی مرحلے تک پہنچے تھے۔ پہلی سے ساتویں جماعت تک کے ان ذہین طلباء کے درمیان ایک انتہائی دلچسپ اور منظم مقابلہ ہوا۔ مقابلے کے راؤنڈز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ صرف بچوں کی یادداشت کو نہ پرکھیں، بلکہ ان کی ذخیرہ الفاظ، چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت اور حاضر دماغی  کا بھی مکمل امتحان لیں۔

 اس تقریب میں ماحولیات اور تعلیم سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے اس موقع پر شرکاء کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیلاتھون اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ ماحولیاتی تعلیم کا آغاز زندگی کے ابتدائی مراحل میں ہی ہو جانا چاہیے، اور اسے بچوں کے سیکھنے کے روزمرہ عمل کے ساتھ اس طرح گوندھ دینا چاہیے کہ وہ اسے کوئی بوجھ نہ سمجھیں۔ ان کا کہنا تھاکہ  جب نوجوان نسل کو زبان کی دلکشی اور تجسس کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے، تو وہ خود کو اس قدرتی دنیا کا ایک اہم حصہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جس کے بارے میں وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ احساسِ ملکیت ہی وہ بنیادی جذبہ ہے جو آگے چل کر انہیں فطرت کا محافظ بناتا ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی میاں الطاف ایم سلیم تھے، جو شکر گنج لمیٹڈ اور شکر گنج فاؤنڈیشن کے بانی، سابق وفاقی وزیر اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سابق صدر کی حیثیت سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طالب علموں میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ایسے پروگرام کو دیکھنا بے حد متاثر کن ہے جس نے لگ بھگ تین دہائیوں تک اپنی اہمیت اور افادیت کو برقرار رکھا ہو۔ ان کے الفاظ میں، آج کے نوجوانوں کو ماحولیات کے بارے میں تعلیم دینا دراصل اس قیادت میں سرمایہ کاری کرنا ہے جو ہم کل دیکھیں گے۔

مستقبل کا راستہ اور ماحولیاتی قیادت کی فراہمی

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے محکمہ ماحولیاتی تعلیم کے زیر اہتمام ہر سال منعقد ہونے والی یہ نیشنل چیمپیئن شپ ادارے کی ان وسیع تر کوششوں کا ایک بنیادی حصہ ہے جو پاکستان کے تعلیمی نظام میں ماحولیاتی آگاہی کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انتیس سالوں کی طویل جدوجہد کے بعد، آج یہ مہم ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں یہ نوجوانوں کے کردار کو ایک ایسے مستقبل کی تشکیل میں متحرک کر رہی ہے، جس میں ماحول کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔

خلاصہ  یہ ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا یہ تعلیمی منصوبہ محض ایک رسم نہیں، بلکہ بقا کی ایک خاموش جنگ ہے۔ یہ ایک ایسے معاشرے کی جانب قدم ہے جو فطرت سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا سیکھے۔ وہ ایک لاکھ پچاس ہزار بچے جو اس سال اس مہم کا حصہ بنے ہیں، وہ صرف طالب علم نہیں، بلکہ وہ ننھے سفیر ہیں جو ماحولیاتی تحفظ کا پیغام اپنے گھروں، محلوں اور مستقبل کے دفتروں تک لے کر جائیں گے۔ جب یہ بچے کل کو معمار، انجینئر، ڈاکٹر یا سیاستدان بنیں گے، تو ان کے فیصلوں میں ماحول دوست سوچ کی جھلک نمایاں ہوگی۔ اور یہی دراصل اس انتیس سالہ طویل سفر کی سب سے بڑی کامیابی اور ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔