“شہر، زنجیر اور پنکی”

عمران عمران

   “شہر، زنجیر اور پنکی”

 

 



سینٹرل جیل کی دیواریں شہر سے ہمیشہ اونچی ہوتی ہیں۔
شاید اسی لیے…
ان کے اندر سچ کم اور آوازیں زیادہ دفن ہوتی ہیں۔

کراچی کی صبح اُس دن دھندلی نہیں تھی،
پھر بھی ہر چیز دھند میں لپٹی ہوئی لگ رہی تھی۔

جیل کے باہر میڈیا وینز کی قطاریں کھڑی تھیں۔
سیٹلائٹ ڈشیں آسمان کی طرف ایسے اٹھی ہوئی تھیں جیسے ہر چینل خدا سے بریکنگ نیوز مانگ رہا ہو۔

پولیس کی بکتر بند گاڑیاں۔
رینجرز کی نفری۔
خار دار تاریں۔
اور اُن تاروں کے پیچھے کھڑے لوگ…
جو انصاف دیکھنے نہیں آئے تھے۔
تماشا دیکھنے آئے تھے۔

کیونکہ اس شہر میں
لوگ حادثوں سے نہیں ڈرتے،
بوریت سے ڈرتے ہیں۔

“پیچھے ہٹیں!”
ایک اہلکار نے لاٹھی ہوا میں گھمائی۔

“کیمرہ اوپر کرو!”
پروڈیوسر چیخا۔

“لائیو جاؤ… لائیو!”

اور اسی شور کے بیچ
ایک  پولیس موبائل اندر داخل ہوئی۔

سب کی گردنیں ایک ساتھ مڑیں۔

پنکی۔

وہی عورت
جسے اسمبلی میں “معاشرے کا ناسور” کہا گیا تھا۔
اور رات گئے وہی اسمبلی ممبران
اسی کے نمبر ڈھونڈتے رہے تھے۔

موبائل کا دروازہ کھلا۔

وہ اتری۔

آج اُس نے سفید کپڑے نہیں پہنے تھے۔
ہلکا سرمئی دوپٹہ تھا۔
بال بندھے ہوئے۔
چہرہ سوجا ہوا۔
آنکھیں لال۔

مگر عجیب بات یہ تھی…
وہ ٹوٹی ہوئی نہیں لگ رہی تھی۔

وہ صرف تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔

ایسی تھکن…
جو انسان کو رونے بھی نہیں دیتی۔

“ملزمہ کو اندر لے جائیں!”

پولیس نے حصار سخت کردیا۔
صحافی چیخنے لگے۔

“پنکی! کیا واقعی آٹھ سو خریدار آپ کے فون میں تھے؟”

“قتل کس نے کیا؟”

“کیا سیاسی شخصیات ملوث ہیں؟”

“آپ پر دہشتگردوں کی مالی معاونت کا الزام ہے!”

وہ چلتی رہی۔

پھر اچانک رکی۔

پیچھے مڑی۔

اور پہلی بار اُس نے میڈیا کو غور سے دیکھا۔

“تم لوگوں کو کبھی بھوک لگی ہے؟”

خاموشی۔

ایک رپورٹر ہکا بکا رہ گیا۔
“
جی؟”

“ایسی بھوک…
جو انسان سے اخلاقیات کھا جائے؟”

کوئی جواب نہیں آیا۔

وہ ہلکا سا مسکرائی۔

“مجھے لگی تھی۔”

اور پھر وہ اندر چلی گئی۔

 

 

 

 

 

 

 

جوڈیشل کمپلیکس کی عدالت عام عدالتوں جیسی نہیں تھی۔

یہاں کھڑکیوں سے شہر نظر نہیں آتا تھا۔
صرف دیواریں۔

موٹی۔
بےحس۔
خاموش دیواریں۔

جج اندر داخل ہوا۔

“تمام غیر متعلقہ افراد باہر جائیں۔”

صحافیوں نے احتجاج کیا۔
وکیل بڑبڑائے۔
پولیس نے دھکے دیے۔

اور کچھ ہی دیر میں کمرہ آدھا خالی ہوگیا۔

لیکن خاموشی پھر بھی نہیں آئی۔

کیونکہ بعض شور انسان ساتھ لے آتا ہے۔

پنکی کٹہرے میں کھڑی تھی۔

سرکاری وکیل فائلیں کھول رہا تھا۔
اتنی فائلیں…
جیسے ایک عورت نہیں، پورا شہر ملزم ہو۔

“ملزمہ کے خلاف سولہ مقدمات ہیں۔”

“منشیات فروشی۔”

“غیر قانونی اسلحہ۔”

“منی لانڈرنگ۔”

“قتل۔”

“دہشتگردوں کی مالی معاونت۔”

ہر الزام کے ساتھ کمرے کی ہوا تھوڑی اور بھاری ہوتی گئی۔

مگر پنکی خاموش رہی۔

جج نے عینک اتاری۔
“
آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں؟”

وہ چند لمحے خاموش رہی۔

پھر آہستہ بولی:
“
اتنے کیسز تو شاید اس شہر پر بھی نہیں ہوں گے جتنے مجھ پر ہیں۔”

کمرے میں ہلکی سی ہنسی پھیلی۔
مگر وہ ہنسی فوراً مر گئی۔

کیونکہ اُس کی آواز مذاق نہیں تھی۔

تھکن تھی۔

سرکاری وکیل بولا:
“
ملزمہ انتہائی خطرناک نیٹ ورک چلاتی تھی۔
رائڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی۔”

“کیا صرف میں کرتی تھی؟”
پنکی نے فوراً پوچھا۔

وکیل رکا۔

“جو خریدتے تھے وہ کہاں ہیں؟”

خاموشی۔

“وہ بچے جو پوش علاقوں میں لائنیں بناتے تھے؟”

“وہ افسر؟”

“وہ اینکر؟”

“وہ سیاستدان؟”

خاموشی اور گہری ہوگئی۔

کیونکہ عدالت میں سب سے مشکل چیز سچ نہیں ہوتی…
سچ کا نام لینا ہوتا ہے۔

 

اچانک پنکی نے اپنی آستین اوپر کی۔

نیل تھے۔

بازو پر سوجن تھی۔

“مجھے مارا گیا ہے۔”

جج نے سر اٹھایا۔
“
کب؟”

“ہر اُس رات…
جب انہیں جواب نہیں ملا۔”

تفتیشی افسر غصے سے بولا:
“
یہ الزام بے بنیاد ہے!”

“بنیاد؟”
پنکی ہنس دی۔

“اس ملک میں کون سی چیز بنیاد پر کھڑی ہے صاحب؟”

کمرے میں پھر خاموشی۔

صرف پنکھے کی چرچراہٹ۔

اور دور کہیں کسی قیدی کی چیخ۔

“کیا آپ نے پہلے میڈیکل کی درخواست دی تھی؟”
جج نے پوچھا۔

وکیل بولا:
“
ہم آج درخواست دے رہے ہیں۔”

سرکاری وکیل فوراً بولا:
“
ملزمہ ڈرامہ کررہی ہے۔”

پنکی نے اُس کی طرف دیکھا۔

“ڈرامہ؟”

وہ آہستہ بولی:
“
کراچی میں زندہ رہنے کے لیے ہر آدمی اداکار ہوتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو یونیفارم مل جاتی ہے…
کسی کو ہتھکڑی۔”

 

باہر اسمبلی میں تقریر جاری تھی۔

“گٹکا بک رہا ہے مگر اب آسان نہیں!”

“ہم نے پنکی کو پکڑ لیا ہے!”

“وہ ماڈل گرل کی طرح عدالت آتی تھی!”

ٹی وی اسکرین عدالت کی دیوار پر لگی تھی۔

سب دیکھ رہے تھے۔

حتیٰ کہ پولیس والے بھی۔

پنکی نے اسکرین کی طرف دیکھا۔

پھر دھیرے سے ہنس دی۔

“یہ لوگ عجیب ہیں۔”

“کیسے؟”
ساتھ کھڑی لیڈی کانسٹیبل نے پوچھ لیا۔

پنکی نے اس کی طرف دیکھا۔

پہلی بار نرم نظروں سے۔

“جو شہر خود نشے میں ہو…
وہ صرف سپلائر پکڑتا ہے۔
نشہ نہیں۔”

لیڈی کانسٹیبل خاموش ہوگئی۔

کیونکہ اُس کے بھائی کی موت آئس کے نشے سے ہوئی تھی۔
اور قاتل کبھی نہیں ملا تھا۔

 

“قتل کے مقدمے میں مزید ریمانڈ درکار ہے۔”

سرکاری وکیل بولا۔

“ملزمہ اپنے کارندوں کے نام نہیں بتارہی۔”

جج نے پنکی کی طرف دیکھا۔
“
آپ بتانا کیوں نہیں چاہتیں؟”

پنکی کچھ دیر خاموش رہی۔

پھر اُس نے عجیب سوال پوچھا۔

“سر…
اگر میں سب کے نام بتا دوں تو کیا یہ شہر رک جائے گا؟”

کسی نے جواب نہیں دیا۔

“اگر ایک پنکی مر جائے تو کیا کراچی پاک ہوجائے گا؟”

خاموشی۔

“نہیں۔”
وہ خود بولی۔

“کیونکہ مسئلہ منشیات نہیں۔
خالی پن ہے۔”

کمرہ ساکت ہوگیا۔

وہ بولتی رہی۔

“یہ شہر اندر سے بہت خالی ہے۔
لوگ پیسے سے خلا بھرتے ہیں۔
جسم سے۔
نشے سے۔
اقتدار سے۔
مذہب سے۔
نفرت سے۔
لیکن خلا پھر بھی رہتا ہے۔”

ایک نوجوان صحافی،
جو چپکے سے دروازے کے پاس کھڑا تھا،
نوٹ لینا بھول گیا۔

کیونکہ پہلی بار
ملزم بول نہیں رہی تھی…
شہر بول رہا تھا۔

 

اچانک بجلی چلی گئی۔

عدالت اندھیرے میں ڈوب گئی۔

صرف ایمرجنسی لائٹ جل رہی تھی۔

مدھم۔
پیلی۔
بیمار روشنی۔

اور اُس روشنی میں پنکی کا چہرہ عجیب لگ رہا تھا۔

نہ مجرم۔
نہ معصوم۔

صرف انسان۔

بہت زیادہ انسان۔

دور اذان کی آواز آرہی تھی۔

جج نے فائل بند کردی۔

“فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔”

پولیس آگے بڑھی۔

ہتھکڑی کی زنجیر بجی۔

اور وہ آواز
عدالت میں موجود سب لوگوں کو غیر محسوس طریقے سے چبھ گئی۔

کیونکہ زنجیروں کی آواز ہمیشہ دوسروں کے لیے نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی انسان اپنی زنجیر بھی سن لیتا ہے۔

پنکی دروازے تک گئی۔

پھر رکی۔

مڑی۔

اور آخری بار بولی:

“مجھے سزا دے دو۔
شاید دینی بھی چاہیے۔”

سب خاموش۔

“لیکن ایک بات یاد رکھنا…”

اُس کی آواز اب بہت دھیمی تھی۔

“جرائم کبھی اندھیروں میں پیدا نہیں ہوتے۔
انہیں ہمیشہ روشن گھروں میں پالا جاتا ہے۔”

پھر وہ چل دی۔

پولیس کے حصار میں۔
کیمروں کے شور میں۔
لوگوں کی نفرت میں۔
اور کچھ اجنبی آنکھوں کی ہمدردی میں۔

باہر شام ہورہی تھی۔

کراچی کی سڑکوں پر پیپلز بسیں چل رہی تھیں۔
اسمبلی میں گٹکے پر تقریریں جاری تھیں۔
پان کی دکانوں پر پڑیاں بک رہی تھیں۔
اور پوش علاقوں میں
کچھ نوجوان اسی وقت
کسی نئے نمبر پر میسج بھیج رہے تھے:

“مال چاہیے۔”

شہر چل رہا تھا۔

کیونکہ شہر کبھی رکتا نہیں۔

صرف چہرے بدلتا ہے۔

اور سینٹرل جیل کی گاڑی میں بیٹھی پنکی
جالی سے باہر دیکھ رہی تھی۔

خاموش۔

جیسے وہ جانتی ہو…

اصل قید جیل نہیں ہوتی۔
اصل قید وہ معاشرہ ہوتا ہے
جہاں ہر انسان دوسرے کے گناہ پر پتھر پھینکتا ہے
تاکہ اپنا گناہ چھپا سکے۔