وہ عید کبھی تو آئے گی۔۔۔۔۔!!
وہ عید کبھی تو آئے گی۔۔۔۔۔!!
اعجاز منگی
یکم شوال کا چاند
آنکھ میں تنکے کی طرح اترا
اور پلکیں بھیگ گئیں!
دل نے دماغ سے پوچھا
آخر وہ عید کب آئے گی؟
جب خوشی شاپنگ سینٹرس کے سامنے
دولت کی خاردار تاروں میں
قیدنہیں ہوگی!
جب جیلوں میں مجرم نہیں
جرم قید ہوگا!
جب ایک اداس لڑکی
اپنے خاندان کی خوشیاں خریدنے کے خاطر
اپنا جسم نہیں بیچے گی!
وہ عید کب آئے گی؟
جب ایک ذہین شخص
اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرے گا
جب ایک غریب انساں
مہنگے ہسپتال کے دروازے پر
ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہیں مرے گا!
جب عام آدمی وردی والوں سے
نہیں ڈرے گا!
جب وکیلوں کی فیس
اور حکمرانوں کی فون پر
انصاف کا نیلام نہیں ہوگا!
جب کسان زمین میں خواب بو کر
بھو ک کی فصل نہیں کاٹے گا
جب مذدورکارخانوں میں
زندہ نہ جلائے جائیں گے
اور ”اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائیں جائیں گے
جب تاج اچھالے جائیں گے
سب تاج تخت گرائے جائیں گے،،
وہ عید کبھی تو آئے گی
وہ عید کبھی تو آئے گی
وہ عید کہ جس کا وعدہ ہے
جو چاند سے تھوڑی ٹپکے گی
دھرتی سے نکالی جائے گی؟
وہ عید کبھی تو آئے گی
وہ عید کبھی تو آئے گی
وہ عید کبھی تو آئے گی
مزید خبریں