کراچی،عدنان اطہر
لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس۔ سندھ ہائی کورٹ
میں رینجرز کے وکیل نے بتایا کہ بارہ سو میں سے
صرف تین سو لاپتہ افراد رہ گئے ہیں۔بیشتر واپس آگئے اور باقی کا سراغ لگالیا
ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں سوفٹ ویئر انجینئر محمد راشد سمیت درجنوں لاپتا افراد کے کیسز کی
سماعت ہوئی۔ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی کمرہ عدالت میں آہ و بکا ۔جسٹس صلاح الدین
نے پوچھاکہ لاپتہ افراد کو کون واپس لائے گا۔ اس پر رینجرز کے وکیل بتایا کہ بارہ سو لاپتہ افراد میں سے صرف تین سو رہ گئے
ہیں۔ لاپتا افراد کے کئی فورم بے بس ہیں۔ اس پر
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دراصل یہ لوگ بے بس نہیں ۔یہ کام کرنا نہیں چاہتے
اور سنجیدہ نہیں ہیں ۔ رینجرز کے وکیل نے
بتایا کہ لاپتا افراد میں کئی لوگ لندن، سری لنکا اور سائوتھ افریقہ سے بھی ملے ہیں
۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے لوگ اہل خانہ سے تو رابطہ
کرتے ہوں گے۔ کیا ادارے ان رابطوں کی بھی
تحقیقات نہیں کرسکتے ۔ کم از کم یہ بتا دیں کہ بندہ خود چلا گیا ہے ۔ عدالت نے گیارہ ستمبر
تک لاپتا افراد بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔