کراچی،عرفان علی
کم عمر ڈرائیوز کے والدین
ہوجائے ہوشیار سندھ ہائی کورٹ نے کم عمر ڈرائیورز کی جہاں گاڑی ضبط کرنے کا حکم دیا
وہی والدین کو بھی ذمہ دار قرار دیئے جانے کا حکم دےدیا۔جسٹس آفتاب گورڑ نے
استفسار کیا کہ 18 سال سے کم عمر کے ڈرائیورز کے ساتھ انکے والدین کو بھی ذمہ قراردیا
جائے کم عمر ڈرائیورز شہر میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں
سندھ ہائی کورٹ میں دو کم
عمر ڈرائیورز کی درخواست ضمانت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آفتاب گورڑ نے استفسار
کیاکہ کم عمر نوجوانوں کی موٹر سائیکل حادثات میں ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات پر
معاشرے میں تشویش پائی جاتی ہے۔یہ حالات حکومتی اداروں کی مداخلت کے متقاضی ہے خاص
طور پر جہاں بیس برس سے کم عمر نوجوانوں کی بڑی تعداد حادثات کاحصہ ہوں۔
عدالت کی آبزرویشن ہے
متعدد حادثات می اتنے کم عمر ڈرائیور ملوث تھے جو اپنی اور گاڑی کی حفاظت بھی نہیں
کرسکتے تھے۔
نیٹ سماعت کے دوران
عدالت نے کم عمر ڈرائیورز کی گاڑی بھی ضبط کرنے کاحکم دیا اور کہاکہ پہلے مرحلے میں مہم چلائی جائے اور والدین کو
بھی ذمہ قرار دیا جائے۔کم عمر نوجوانوں میں موٹر سائیکل ریس جیسے مشاغل کو روکنے
کے لیے ضروری اور موثر اقدامات کریں عدالت نے آئی جی سندھ اور ہوم سیکریٹری کو
ہدایات جاری کردی
سندھ ہائی کورٹ میں دو کم
عمر ڈرائیورز کی درخواست ضمانت پر توسیع کرتے ہوئےمزید تحقیقات کی ہدایت کردی واضح
رہے شارع فیصل پر موٹر سائیکل ریس کے دوران مبینہ طوپر دوسری موٹرسائیکل کی ٹکر
لگنے کی وجہ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔