کراچی،عمران
چہرہ ڈیجیٹل ڈاٹ کام
کشمیری میڈیا سروس ذرائع
کے مطابق 92 سالہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا انتقال سری نگر میں ہوا ، وہ
طویل عرصے سے بیمار تھے۔
حالیہ کئی برسوں سے بھارتی
فوج نے انہیں نظر بند کررکھاتھا تاہم رحلت کی تصدیق ان کے خاندانی ذرائع نے کردی ہے۔
بھارتی افواج نے ان کے گھر
جانے والے راستوں کو بند کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وادی میں ان کی نماز
جنازہ اور تدفین کے موقع پر کرفیو بھی نافذ کئے جانے کا قوی امکان ہے۔
سید علی گیلانی 29 ستمبر
1929 کو پیدا ہوئے،وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر کے رکن بھی رہے سید گیلانی
نے تحریک حریت کے نام سے اپنی جماعت بنائی
سید علی گیلانی آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔
بھارت نے کئی برس سے سید
علی گیلانی کو نظر بند کیا ہوا تھاسید علی گیلانی 1952 میں جماعت اسلامی میں شامل
ہوئے, تحریک آزادی کشمیرکےلیے1959 میں سرکاری ملازمت کو خیرباد کہامسئلہ کشمیرکواجاگرکرنے
کےجرم میں 1962 میں بھارت نے پہلی دفعہ گرفتار کیا
وزیر اطلاعات فواد چوہدری
نے کہاکہ سید علی گیلانی کی وفات کی خبر پاکستانی اور کشمیری عوام پر بجلی کی طرح
گری ہے سید علی گیلانی نے فکر حریت کی شمع جلائی،
جب تک اہل کشمیر آزادی
حاصل نہیں کرلیتے یہ شمع جلتی رہے گی

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا سید علی گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان تحریک آزادی کے مشعل بردار کے انتقال پر سوگوار ہے سید علی گیلانی نے آخری دن تک کشمیریوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی، سید علی گیلانی نے بھارتی نظر بندی کے دوران جان دی اللہ پاک مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور آزادی کا خواب پورا کرے،وزیر اعظم عمران خان نے سینیئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے
اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم
عمران خان کا کہناتھاکہ سید علی گیلانی کے انتقال کا سن کر دکھ ہوا انہوں نے ساری
عمر کشمیریوں کےحق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کی۔وزیر اعظم نے سید علی گیلانی کے
انتقال پر ایک روزہ سوگ اور پرچم سرنگوں کا بھی اعلان کیاہے۔
سید علی گیلانی کی رحلت کا
سن کر دل رنجیدہ ہے، وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے کہاکہ سید
علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں تھے، سید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی
تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی، سید علی گیلانی نے بھارتی ظلم و جبر کا
دلیری کیساتھ مقابلہ کیا سید علی گیلانی عزم و حوصلہ کے کوہ گراں تھے، وزیراعظم
آزاد جموں وکشمیر نے کہاکہ جبر ، جیل اور تشدد کا کوئی مرحلہ ان کے عزم آزادی کو
کبھی کمزور نہ کر پایا، سید علی گیلانی کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گےان
کا کہناتھاکہ کشمیری قوم سید علی گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل
حاصل کریں گی،
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کاحریت راہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیاہےانکا کہناہےکہ سید علی گیلانی نے اپنی آخری سانس تک مقبوضہ جموں کشمیر تحریک آزادی میں بھر پور حصہ لیا، انکے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا وہ کبھی پر نہیں ہوسکتا، بیماری کے باوجود کئی سال اپنے گھر پر نظر بند رہے لیکن نظریہ اور اپنے ٹھوس موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، سیدعلی گیلانی کے انتقال پر پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان افسردہ ہیں، فرخ حبیب نے کہاکہ سیدعلی گیلانی کے بلند درجات اور اہلخانہ کے صبرو جمیل کے لئے دعا گو ہیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ عظیم مجاہدآزادی، سب سےبڑے پاکستانی اور دنیا بھر کےحریت پسندوں کےلیےامید و حوصلےکا مرکز تھے۔ پاکستان آج اپنے سب سےوفادار بیٹے سےمحروم ہوا ہے۔ بھارتی سامراج کے سامنے ان کی جدوجہد تاریخ میں ایک ضرب المثل کے طور پر ہمیشہ موجود رہےگی،