’’عورت عشق ہے‘‘


’’عورت عشق ہے‘‘


اعجاز منگی
انسانی تاریخ مرد کی بکواس سے بھری ہوئی ہے
اور عورت صدیوں کے سفر میں خاموش رہی ہے
ادب کے اتہاس میں مرد بہت چیخا اور چلایا ہے
مگر عورت کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ رہی ہے
وہ مسکراہٹ مونا لیزا کی مسکراہٹ کی مانند
ایک’’ ڈاونچی کوڈ‘‘ ہے
وہ ڈاونچی کوڈ آج تک کسی مرد نے ان کوڈ نہیں کیا
مرد کر بھی نہیں سکتا
مرد نہیں جانتا کہ
عورت کی لپ اسٹک کے نیچے کتنی محبتوں کی مٹھاس
اور کتنی نفرتوں کی تلخی ہے!!؟
امرتا نے ٹھیک کہا تھا
’’مرد نے ابھی تک عورتوں کے ساتھ سونا سیکھا ہے
اس کو اب عورت کے ساتھ جاگنا ہوگا‘‘
اور فیمنسٹ عورتوں کا موقف ہے
’’مردوں کو تو عورتوں کے ساتھ سونا بھی نہیں آتا
اگر مرد عورتوں کے ساتھ سونے کا آرٹ جانتے
تو عورت ’’لیس بی انزم‘‘ کی لہروں پر
اپنے کایا کی کشتی کیوں رکھتی؟‘‘
مرد کو تو محبت کرنا بھی نہیں آتی
مرد عشق کرنا کیا جانے؟
عشق صرف عورت کر سکتی ہے
اور عورت نے عشق کیا ہے!
مرد کی ضد سے مجبور ہوکر عورت معشوق بنی ہے
وگرنہ عورت تو ازل سے عاشق ہے!!
اگر ایسا نہ ہوتا تو لطیف کیوں کہتا
’’محبت میں میری مرشد عورت ہے‘‘
معلوم نہیں کہ کسی دانشور شاعر نے
اپنی نوٹ بک میں کیوں نہیں لکھا
’’عورت عشق ہے‘‘
اور جب کبھی بھی عشق کا اظہار کرنا مقصود ہوا ہے
مرد شاعر کو بھی عورت بننا پڑا ہے!
عشق کا اظہار صرف عورت کرسکتی ہے
اور جب بھی وہ اپنے سرخ لب
دل کے لہولہان ہونٹوں کے سپرد کرتی ہے
تب دنیا میں ایک شاعرہ پیدا ہوتی ہے!
وہ شاعرہ یونان میں سیفو
ایران میں طاہرہ
اور اس دھرتی پر پروین کی نام سے پکاری جاتی ہے!!
آئیں آج پروین کی بات کریں
آج پروین کے جسم کی برسی
آج پروین کے روح کی سالگرہ ہے
وہ پروین جس کی پہلے اور آخری مجموعے کا نام
’’خوشبو‘‘تھا
کیا شاعری کے مجموعے کا اس سے بہتر اور کوئی نام ہوسکتا ہے؟
معلوم نہیں کہ پروین نے اپنے دیوان کا نام ’’ماہ تمام‘‘ کیوں رکھا؟
میں مانتا ہوں کہ وہ فیض اور فراز کی طرح الکوہلک نہیں تھی
مگر وہ رومانس کی رند تھی
وہ کہتی تھی:
’’پینے والی نگاہ ہے درکار
آنکھ کو چاند کا سبو ہے بہت‘‘
وہ عورت جو ’’ماہ تمام‘‘ کے جام سے
چاندنی کا مدھ پیتی تھی
وہ جس کا جسم پھول
وہ جس کی روح ’’خوشبو‘‘ تھی
وہ اس موسم میں بچھڑ گئی
اس موسم میں جس موسم میں
اسلام آباد کے درخت بہت اداس ہوجاتے ہیں
جب پت جھڑ کی سرد پون چلتی ہے
جب پتے سڑک پر بکھر جاتے ہیں
وہ ایک سرخ پتے کی طرح
اسلام آباد کی سڑک پر
کچلی گئی!
اس موسم کا ہر پتا
آج بھی اس کا پتہ دیتا ہے!!
وہ عورت جواب خاک میں
ایک بیج کی طرح پنہاں ہے
اس عورت کے انکر کب نکلیں گے
اس دھرتی کے در سے
اداس خوشبو کا گذر کب ہوگا؟
کب کوئی لڑکی اس کے ترنم کو
اپنا ترانہ بنا کر گائے گی؟
کب ہم ہوا کی نرم آہٹ پر
یہ اشعار سن پائیں گے
’’تراش کر میرے بازو اڑان چھوڑ گیا
ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے
رہا جو اس میں وہ آخر مکان چھوڑ گیا‘‘
اور
’’حسن کو سمجھنے میں عمرچاہئیے جاناں
اک گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں‘‘