کراچی کی ساحلی پٹی پرنوجوانوں کےلیےٹیکنیکل کالج کاخواب بیس سالوں میں بھی پورانہ ہوسکا۔


کراچی کی ساحلی پٹی پرنوجوانوں کےلیےٹیکنیکل کالج کاخواب بیس سالوں میں بھی پورانہ ہوسکا۔

کراچی،عدنان اطہر

کراچی کی ساحلی پٹی پرنوجوانوں کےلیےٹیکنیکل کالج کاخواب بیس سالوں میں بھی پورانہ ہوسکا۔۔۔بیس سال قبل ریڑھی گوٹھ میں مونوٹیکنیکل کالج  کی بنیادرکھی گئی تھی۔۔۔جوتاحال مکمل نہ ہوسکا۔۔۔اہل علاقہ کہتےہیں صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں غیرسنجیدہ رویہ سب کےسامنےہے ۔

کراچی کی ساحلی پٹی پربنےوالاواحدسرکاری ٹیکنیکل کالج محکمہ تعلیمی کےغیرسنجیدہ رویےکی نظرہوگیا۔

پچاس ایکڑرقبےپرمحیط ٹیکنیکل کالج  بیس سال گزارنےکےبعد بھی زیرتعمیرہے۔۔۔

ریڑھی گوٹھ میں زیرتعمیرٹیکنیکل کالج کی بنیاداس وقت کےوزیراعلیٰ  کےاحکامات پررکھی گئی تھی۔

جہاں سے آج تک تعلیمی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکی

علاقہ مکین  کادعویٰ ہےکہ کالج کےلیےزمین اس لیےدی تھی کہ علاقے کےنوجوانوں ٹیکنیکل تعلیم حاصل کریں ،کیونکہ نوجوان نسل منشیات کی جانب راغب ہورہی تھی۔۔۔اہل علاقہ کہتےہیں کہ  کالج کی تعمیرجلدمکمل کی جائےتاکہ ریڑھی گوٹھ کےطالب علموں کوحاصل علم کےلیےعلاقہ سےدورشہرکی جانب  نہ جاناپڑے۔۔۔کیونکہ یہ ایک دشوارعمل ہے