کراچی میں آئی سی آئی پل پر آئل ٹینکر الٹا تو استعمال شدہ آئل کی
خریدوفروخت کرنے والے افراد کی چاندی ہوگئی۔۔حادثے کی اطلاع سن کر دور دراز سے خواتین،بچے اور نوجوان آئل جمع کرنے چلے آئے اور خطرات کی پرواہ کئے بغیر سڑک پر گراآئل جمع کرتے رہے۔
پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر ہر طرح کا خطرہ اٹھانے کو تیار۔۔۔
پرانے اور استعمال شدہ آئل کی خریدو
فروخت کے ذریعے بچوں کی روزی روٹی کا بندوبست
کرنے والے سخی جان کو بنارس میں اطلاع ملی تو کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے
آئی سی آئی برج پہنچ گیا۔۔ٹینکر سے بہنے والے آئل کو سڑک پر کپڑے پھیلا کر آئل
جمع کرنے کی تگ و دو کرتا رہا۔۔
سڑک پر گرا آئل جمع کرنے والوں میں صرف سخی جان ہی نہیں بلکہ اس جیسے
کئی دیگر محنت کش بھی پیش پیش تھے۔۔۔جن کا کہنا تھا کہ ان کی کاوش سےنہ صر ف سڑک
جلد صاف ہوجائے بلکہ انہیں بھی چند پیسے کمانے کو مل جائیں گے
پولیس اور انتظامیہ کی جانب خطرہ مول لینے والے ان افراد کو یہاں
ہٹانے کی کوشش نہیں کی گئی