کراچی میں ناظم جوکھیو قتل کیس میں پولیس چالان کی منظوری سے متعلق فیصلہ محفوظ

صبانور صبانور

 کراچی میں ناظم  جوکھیو قتل کیس میں پولیس چالان  کی منظوری سے متعلق  فیصلہ محفوظ

کراچی میں ناظم  جوکھیو قتل کیس میں پولیس چالان  کی منظوری سے متعلق  فیصلہ محفوظ۔   مدعی کے وکیل کا  تفتیشی افسر پر  بدنیتی کا الزام۔ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرنے پولیس تفتیش میں  خامیوں کی نشاندہی کردی۔

ملیر کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ  کی عدالت میں ناظم جوکھیو قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ مدعی کے وکیل نے دلائل دیئے  کہ ناظم جوکھیو کو،، اس کے گھر سے مرضی کے برخلاف جام ہاوس لے جایا گیا۔ تفتیشی افسر کی جانب سے سات ملزمان کو فہرست سے خارج کرنا بدنیتی ہے۔ مدعی اور ناظم جوکھیو کی بیوہ نے 161 کے بیان میں تمام ملزمان کے کردار واضح کئے ہیں۔161  کے واضح بیانات کے باوجود ملزمان کو ریلیف دیا گیا۔

ملزم کے وکیل نے کہا زبردستی جام ہاوس لے جانے کے باوجود،،، پولیس نے چالان سے اغوا کی دفعہ خارج کردی۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ مقدمے کے ابتدائی مرحلے پر ملزمان کو فہرست سے خارج کرنا مناسب نہیں ہے۔پولیس تفتیش میں کئی خامیاں واضح نظر آتی ہیں۔فریقین کے وکلا کے  دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چالان  منظور کئے جانے سے متعلق فیصلہ آٹھ فروری کو سنایا جائے۔