کراچی
میں لیاری ایکسپریس وے شہریوں کاوقت بچانےاورسہولت کےلیےقائم کیاگیا ۔ لیکن ایکسپریس
وے کےداخلی اورخارجی راستوں پرگڑھےپڑچکےہیں
۔ جس سے شہریوں کومشکلات کاسامناہے۔
تجارتی
شہرکراچی میں ٹریفک کا اژدھام ۔۔ گھنٹوں ٹریفک جام کی اذیت سےبچنےکیلئےشہری لیاری ایکسپریس
وےکاانتخاب کرتےہیں لیکن یہاں بھی مشکلات کم نہیں۔داخلی اورخارجی راستوں کی سڑکیں ٹوٹ
پھوٹ کا شکار۔۔ گہرےگڑھےنہ صرف ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتےہیں بلکہ گاڑیوں کےنقصان
کا سبب بھی بنتےہیں۔
ہمارے
بڑے بیچارے بول بول کر چلے گئے ہم بھی چلے
جائیں گے ہمارے بچے بھی چلے جائیں گے لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوگا
میرے
صاحب خود مریض ہیں انہیں بہت تکلیف ہے پھر گاڑی کھڈوں میں جاتی ہے بعض کھڈوں کا تو
پتہ بھی نہیں چلتا
ایکسپریس
وے سہراب گوٹھ ۔۔ عیسٰی نگری کی داخلی خارجی سڑکیں خستہ حال ہوچکی ہیں۔۔ شہری کہتےہیں
کہ کراچی والوں کےٹیکس کا پیسہ آخر کب شہرکی حالت درست کرنےپرخرچ ہوگا۔۔
کراچی کے ٹیکس کا پیسہ کراچی پہ لگنا چاہئے یہ ہی ہمارا المیہ ہے یہاں کا پیسہ
یہاں نہیں لگ رہا پنچاب میں سڑکوں کی حالت بہتر ہے
شہریوں
کا شکوہ ہےکہ اداروں کی جانب سے ایک دوسرے پرذمہ داری ڈالنےکا کھیل اب ختم ہونا چاہئیے،شہریوں
کےبنیادی مسائل کا حل انتہائی ضروری ہے