کراچی، عمران
راہ
عشق کی تڑپ اور جستجو کا حقیقی معانوں میں اس کے چلے جانے کے بعد اسے احساس ہوا،
ابھی وہ اکیلے بیٹھ کر سوچ سکتی تھی کہ اس کا عشق کیوں اسے سونے نہیں دیتا تھا،
کیوں وہ ہر وقت ایک اذیت اور تکلیف میں رہتاتھا،اپنوں کی خوشحالی کے خوابوں کو اس
نے کئی سالوں سے اپنی آنکھوں میں سمویا تھا پھر انہیں سچ کر دیکھانے کی راہ میں
وہ دن رات جدوجہد میں لگا رہتاتھا ، اس کی محبت اسے کبھی چین سے رہنے نہیں دیتی
تھی جو وہ سوچتا تھا چاہتا تھا اس کے لیے وہ ہروقت محنت میں مگن رہتا تھا، اپنی
مٹی سے اس قدر پیار تھا اسے وہ صرف اور صرف اس کی خوشحالی ترقی اورکامیابی کو اپنی
آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔
رات کے پچھلے پہر میں گھنٹوں گھنٹوں اس کے ساتھ کی گئی باتوں کو یاد کررہی تھی، میرا
رومانس میری مٹی ہے میرے لوگ ہیں میں انہیں اس مٹی کا مالک دیکھنا چاہتاہوں، تمہیں
پتا ہے ہم ترقی کرسکتے ہیں آگے بڑھ سکتے ہیں ہماری قوم ہمارے لوگ بہت ذہین ہے
محنتی ہے،انہیں لیڈر شپ کی ضرورت ہے انہیں کوئی راہ دیکھانے والا نہیں انہیں کو
سمجھانے والا نہیں میں یہ سمجھتا ہوں میں انکو سجھا سکتا ہوں دنیا کے بڑے بڑے
انقلاب تبدیلیاں محنت اور جدوجہد سے آئی ہیں، ہم کوئی آزادی کی جنگ تھوڑی لڑ رہےہیں کہ ہمیں کسی قسم کی
پریشانی کا سامنا ہوہم اپنی دھرتی پر رہ
کر اس کےجائزہ حقوق کی جنگ لڑرہےہیں یہ
جنگ ہماری کسی اور کے ساتھ تھوڑی ہے ہمارے اپنوں کے ساتھ ہے،اس ، لیکن جنگ میں کسی قسم کا
سمجھوتہ نہیں ہوگا تمہیں پتا ہے حق لینے کےلیے قربانی دینی پڑتی ، یہ کانٹوں پر
چلنے کا سفر ہے، ننگے پیروں ٹوٹے شیشوں پر چلنے کا راستہ ہے ، انگاروں پر چلتے مسکراہٹ
کے پھول چہرے پر کھلا کر ہی ہم اس صبح کو حاصل کرسکتے ہیں جو ہماری تمھاری منزل ہے
جو اس خطے میں رہنے والوں کا اصلی حق ہے لیکن دکھ یہ ہوتاہے کہ سرمایہ دار یہاں پر
بسنے والوں کے رومانس اورجنون کو ابھی تک نہیں جان سکا ہے،اس پر بسنے والے اس مٹی
سے کس قدر پیار کرتے ہیں ، تبدیلی بہت تکلیف دہ سفر ہےیہ بعض دفعہ نسلوں کی قربانی
مانگتی ہے ، ایک نسل کو دوسرے نسل کے خوابوں کو سچ کردیکھانے کی راہ میں اپنے آپ
کو قربان کرنا پڑتاہے اور میں اب قربان ہونا چاہتاہوں میں آگاہی اور شعور کی وہ
شمعیں روشن کرنا چاہتاہوں جو ان ذہنوں میں ہمیشہ روشن رہے گی ،تم مجھے بہت پیار
کرتی ہوں مجھے معلوم ہے ، تمھاری پوری کائنات میں ہوں لیکن دیکھوں ہم سب اگر اپنے
لیے جئے گئے تو ان مجبور لاچار پریشان اور مسکین لوگوں کا کون سوچے گا ہمیں بھی اس
مٹی کا حق ادا کرنا ہے اپنے حصے کی قربانی دینی پڑے گی ، تم مجھے معاف کرنا میں
تمہیں وقت نہیں دے پاتاہوں لیکن میرے سانسوں میں روح میں تمھاری محبت تحلیل ہے ہم
کبھی بھی الگ نہیں ہوسکتے ہیں بس اس جدوجہد میں تم میری ساتھی ہو اورتم نے تھکنا
نہیں ہے چاہے زندگی میں کتنی بھی مشکلات کیوں نہ آئے۔ابھی گھر کے صحن میں اپنے
بچے کو گود میں سلاتے ہوئے اپنے دوپٹے سے اپنے آنسوئوں کو پونچھتے ہوئے اس نے ٹھنڈی سانس لی اور اس کی جدائی کی تکلیف کو بہادری کے ساتھ برداشت
کرنے کی کوشش کرہی رہی تھی کہ اچانک اس کے ذہن میں اس رات کا منظر گردش کرنے لگا
جس رات اسے وہ لوگ اٹھاکر لے گئے تھے،گھر کی تلاشی
کے بعد اس کی کتابوں کے علاوہ انہیں کچھ نہ ملا تھا،
تاریخ، انقلاب، دنیا کی قدیم قوموں کی زوال کی
کہانیاں اور دیگر آٹو بائیوگرافی جیسی کتابوں پر انکی نظر پڑی تھی انہوں نے غور
سے اس کے گھر کی تمام اشیاء کا ایک بار پھربغور جائزہ لیا،، لیکن اس کی سوچ ، خیال
تصور اور نظریئے سے وہ اس قدرگھبرائے ہوئے تھے کہ اسے کالی رات کے اندھیرے میں
اپنے ساتھ لیکر گئے۔
وہ روتی رہی چیختی چلاتی
رہی ہمیں بتایا جائے آخر ہمارا قصور کیاہے کیوں لےجارہے ہو انہیں کون لوگ ہے آپ لیکن انہوں نے چہرے چھپائی ہوئے
تھے اور رات کے اندھیرے میں وہ اس ذہن کو خاموش رہنے کا سوچ رہے تھے کہ جس نے
خوشحالی ترقی اور بہتری کی باتیں کی تھیں۔
شریک حیات اور بچے کے باپ
سے دور رہنے کا غم صرف وہ ہی جان سکتی تھی، جس کے دل دماغ میں اس کی باتوں کی خوشبو کی مہک ابھی بھی تازہ تھی کالے
جوڑے میں اپنے محبوب کے ہجر میں ملن کےگیت اپنی درد مند آواز میں گا کر سماجی
رابطے کی ایپلی کیشن ٹوئٹر پر اب وہ شوہر کی بازیابی کی مہم چلا رہی تھی کہ انہیں جلد
بازیاب کرایا جائے اور انہیں رہا کیا جائے، عدالت میں درخواست جمع کرانے کے بعد
احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس میں وہ ملک کے شہر شہر میں احتجاجی مہم تیز
کرتی رہتی ہے اور اپنی شوہر کی بازیابی کے لیے دن رات کوشاں رہتی تھی ایک دن احتجاج کے دوران اس کی اپنی پرانی سہیلی
سے ملاقات ہوجاتی ہےاوروہ اسے کہنے لگتی ہے کہ منع کیا تھا اس جدوجہد میں سوائے تکالیف اورپریشانیوں کے علاوہ کچھ نہیں لیکن تم لوگ نہیں سمجھے اب اپنی حالت دیکھ لو اپنی سہیلی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پہلے وہ مسکرائی اور بولی کہ تم نہیں سمجھو گی,اس جدوجہد کو یہی توہمارا سینگھار ہے۔