کراچی میں لٹیروں اور سیکیورٹی گارڈز کے درمیا
ن فائرنگ کی زد میں آکر چار سالہ ننھی بچی کی جان چلی گئی۔ رات کو ایم
ایل او نا ہونے کےسبب صبح پوسٹ مارٹم ہوا۔ذرائع میڈیکو لیگل کے مطابق بچی کوسر کے اوپری حصے میں ایک گولی
لگی،، جو کنپٹی سے پار ہوگئی۔ ننھی
کلی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ مارٹ انتظامیہ کی مدعیت میں واردات کا مقدمہ درج۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئے۔
کراچی،
شاہ لطیف ٹاون میں گزشتہ روز منزل پمپ کے قریب ملزمان منی مارٹ میں ڈکیتی کی نیت سےداخل ہوئے۔واردات کے بعد ملزم
فرار ہونے لگے ،، تو مارٹ پر تعینات سیکیورٹی
گارڈز نے فائرنگ کردی۔ ایک زخمی ڈاکو کو
شہریوں نے پکڑ لیا۔ فائرنگ کی زد میں آکر چار سالہ ننھی حرمین
زخمی ہوگئی اور اسپتال میں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئےچل بسی۔جناح اسپتال میں
میڈیا سے گفتگو میں جاں بحق بچی کے بھائی
کا کہنا تھا ہم موٹرسائیکل پر جارہے تھے۔ اچانک فائرنگ کی آواز آئی تو میں رک گیا
۔ایسا لگا کہ بچی ڈرگئی ہے۔ لیکن دیکھا کہ
حرمین کے جسم سے خون بہہ رہا ہے۔ جناح اسپتال میں رات کی شفٹ میں ایم ایل او نا
ہونے کے باعث بچی کی لاش سرد خانے منتقل کی گئی۔ صبح گیارہ
بجے لگ بھگ لیڈی ایم ایل او نے بچی کا پوسٹ مارٹم کیا۔ ذرائع میڈیکو لیگل
کا دعویٰ ے کہ بچی کوسر میں ایک گولی لگی۔ گولی سر کے اوپری حصے میں لگی اور کنپٹی
سے پار ہوگئی۔ موت کی وجہ سر پر لگنے والی گولی ہی ہے۔ بچی کے ماموں سکندر خان کا
کہنا تھا پوری رات ڈاکٹر کا انتظار کیا۔ ہمیں بتاتے تو ہم ڈاکٹر کو لے آتے۔ ہمارے زور دینے پر پوسٹ مارٹم ہورہا ہے ۔ ورنہ
نا ہوتا۔ حرمین تین بہن بھائی ہیں جبکہ بچی کے والد دبئی میں ہیں۔ بعد میں بچی کی میت گرین ٹاون میں رہائش گاہ منتقل کی گئی۔ننھی حرمین کی
نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ مارٹ
انتظامیہ کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔متن مقدمہ کے مطابق مارٹ پر ڈکیتی کے لیے چھ ملزمان
آئے تھے۔ چار ملزمان اندر داخل ہوئے دو باہر رکے رہے۔ملزمان نے کیش کاؤنٹر سے اٹہتر ہزار
روپے لوٹے اور لوٹتے ہوئے فائرنگ کردی۔سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک ڈاکو
زخمی ہوگیا جبکہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے چار سالہ حرمین جاں بحق ہوگئی۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج
بھی سامنے آگئی۔