ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں اومی کرون ویرینٹ کے 23 نئے کیسز سامنے
آگئے۔
کراچی میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی
گھنٹی بجادی ،،، ماہرین کے مطابق شہر میں کورونا کی پانچویں لہر کا آغاز ہوگیا
ہے،،، جنوری کے درمیان میں کیسز کی شرح 20 فیصد تک ہوسکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں
80 فیصد کیسز اومیکرون ویرینٹ کے ہونگے۔۔
کراچی میں کورونا کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ،،،
وبائی امراض کے ماہرین نے کورونا کی پانچویں لہر کے آغاز کی نشاندہی
کردی ،، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے جینوم سیکونسنگ کے ذریعے مزید 23 افراد
میں اومی کرون ویرینٹ کی موجودگی کی تصدیق کردی
محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 75 فیصد سے زیادہ
کیسز کراچی سے ہیں ،،،ماہرین کے مطابق نیا ویرینٹ ڈیلٹا سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل
رہا ہے اور پاکستان میں بہت کم مریضوں کی جینوم سیکوینسنگ کی جاتی ہے،، ممکنہ طور پر یہ کروناکے اومیکرون ویرینٹ کی
کمیونٹی ٹرانسمیشن ہے،،
ماہرین کے مطابق اومی کرون ویرینٹ جس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خدشہ ہے
کہ جنوری کے وسط میں کیسز کی تعداد 80 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق اومی کرون کے سب سے زیادہ کیسز
ضلع جنوبی اور شرقی میں سامنے آئے ہیں۔۔ محکمہ صحت سندھ نے کاروباری اوقات محدود
کرنے کے حوالے سے سفارشات بھی بھیجی ہیں۔ وفاقی حکام کے مطابق شہر میں ویکسینیشن کی
رفتار میں تیزی لانے کی بھی ضرورت ہے۔