ریکوڈک کا مستقبل

ابراہیم بہرانی ابراہیم بہرانی

ریکوڈک کا مستقبل

اپنے اندر کئی خزانے چھپائے صوبہ بلوچستان ہمیشہ ایک مکمل قیادت کی تلاش میں اپنے قیمتی خزانے کوڑیوں کے بھاؤ گنواتا جا رہا نا اہل حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بھینٹ چڑھنے والا ایک انمول خزانہ ریکوڈک بھی ان لٹنے والے خزانوں میں شامل ہے جس سے بلوچستان کی سات پشتیں تو کیا تمام عمر کے لیئے یہاں کی خوشحالی اس منصوبے سے متصل ہے مگر اسے ہمیشہ کباڑ سے بھی کم اہمیت دی گئی ہے جس کی وجہ سے بجائے پاکستان کا فائدہ ہوتا الٹا نقصان کا سبب بن گیا فائدہ بھی کیا ہونا تھا اس کا جو پہلا معاہدہ ٹی تھیان کاپر کمپنی اور بیرک گولڈ کمپنی کے ساتھ کیا گیا اس میں یہ تک طے نہیں کیا گیا کہ اس کی پیوری فکیشن یہی بلوچستان میں کی جائے تاکہ یہاں ایک تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے دوسرا سونے تانبے اور دوسری دھاتوں کی الگ قیمت لگانے سے جو فائدہ ہونا تھا اسے ضائع کیا گیا اور یہ دونوں کمپنیاں اپنی مرضی کے مطابق ریٹ پر ریت کے حساب سے یہ خزانہ لے جاتی رہیں جب یہاں کی قیادت کو یہ بات سمجھ میں آئی تب تک معاہدے کو بڑا عرصہ گذر چکا تھا اور معاہدے کی مدت ختم ہونے پہلے جب ان کمپنیوں کو کام کرنے روکا گیا تو وہ کمپنیاں عالمی عدالت چلی گئیں اور وہاں پاکستاں کی حکومت کے خلاف کیس کر دیا بہت بھاری فیسیں ادا کر کے یہاں سے وکلاء کا پینل وہاں بھیجا گیا جس نے کیس کو صرف طول دینے پر زور لگایا اور یہ سمجھتے رہے کہ کمپنیاں ہیں اپنے کیس سے بھاگ جائیں گی بحرحال کیس چلتا رہا اب یہاں وہ جملہ بنتا ہے کہ تاریخ پر تاریخ لینے میں کامیابی حاصل کرنے رہے آخر کار عدالت نے تنگ آ کر پاکستان کو ایک موقع دیا کے آپ عدالت سے باہر معاملے کو سلجھا لیں اور عدالت کو اس سے آگاہ کریں جب ان کمپنیوں سے عدالت کے باہر معاملہ نمٹانے کی بات کی گئی تو انہوں واپس کام کرنے کی اجازت مانگ لی جس پر حکومت اب کسی صورت نہیں راضی نہیں تھی آخر کار معاملہ پھر عدالت چلا گیا جہاں پھر ایک سلسلہ پیشیوں کا شروع ہے جس کا صرف اور صرف فائدو وکلاء حضرات کو تھا جو بھاری بھرکم فیس لے کر بیرون ملک کے مزے لوٹنے جاتے تھے ایک دن عدالت سے جو فیصلہ آیا اس نے حکمرانوں، عوام سمیت وکلاء کو ہلا کر رکھ دیا جس میں بلوچستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا گیا اتنا بڑا جرمانہ کسی ایک منصوبے پر ایک تاریخی جرمانہ ہے جس کو بھر پانا بلوچستان تو کیا پاکستان کے بھی بس کی بات نہیں اس جرمانے کے بعد بیک ڈور روابط جاری رہے اور ایک بار پھر بند دروازوں کے اندر اس منصوبے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ کہیں سے اچانک بلوچستان اسیمبلی کی متحدہ اپوزیشن کو اس کی بھنک پڑ گئی عین اس دن جس دن وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اسلام آباد طلب کیا اپوزیشن کے ممبران نے ایک پریس کانفرنس کر کے اس پر اعتراضات اٹھائے اور ایک دون دن کے اندر اجلاس بلوا کر اس میں قرارداد منظور کروائی کہ اس پر تمام حلقوں کو اعتماد میں لیا جائے اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے جس پر حکومت ان کیمرہ اجلاس میں تمام ممبران کو بریفنگ دی مگر اس کا احوال اسمبلی حال سے باہر کسی کو نہیں بتایا گیا کچھ ہی دن گذرے تھے کہ خبریں باہر آنا شروع ہوئیں کہ دونوں کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا جن میں سے ٹی تھیان کمپنی اپنے حصے کے جرمانے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں جبکہ بیرک گولڈ کمپنی ٹی تھیان کمپنی کو اس کے حصے کا جرمانہ ادا کر کے خود پچاس فیصد کے اشتراک پر کام جاری رکھنا چاہتی ہے اب یہ فیصلہ یہاں کی حکومتوں نے کرنا ہے کہ پچاس فیصد بلوچستان حکومت اشتراک کرتی ہے یا وفاقی حکومت چونکہ بلوچستان حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ شراکت داری کر سکے تو اب یہ پچاس فیصد کی شراکت وفاقی حکومت کرے جس میں فائدے سے کہا جا رہا ہے کہ پچیس فیصد بلوچستان حکومت کو دیا جائے گا جس پر متحدہ اپوزیشن سے میں سے ایک جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہہ مطالبہ کیا ہے بلوچستان حکومت کو پچاس فیصد ادا کیا جائے اس کے بغیر ہم اس معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس سے معاہدے کے ہونے سے پہلے ہی اس کے کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح پہلے بغیر سوچے سمجھے منصوبے کا معاہدہ ہوا اور نقصان اٹھانا پڑا اگر اب بھی بلوچستان کی عوام کو اعتماد میں لیئے بغیر جلد بازی میں یہ فیصلہ کیا گیا تو ریکوڈک کا مستقبل ماضی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوگا۔