اپوزیشن
لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں چھ
ماہ سےزکوۃ فنڈ سے کام چلایا جارہا ہے۔
بائی پاس کے مریضوں کو اسٹنٹ کی جگہ بلون ڈال کر کام چلایا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر
این آئی سی وی ڈی بتائیں بار ہ ارب کا بجٹ
کہاں جارہا ہے۔
اپوزیشن
لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے ادارہ برائے امراض قلب کا بہت شور
سنتے ہیں۔ حال یہ ہے کہ یہاں زکوۃ فنڈ سے کام چلایا جارہا ہے۔
این
آئی سی وی ڈی میں گفتگو کرتے ہوئے
کہا طبی عملے کو الاونس نہیں دیا جارہا۔
بائی پاس کے مریضوں کو اسٹنٹ کی جگہ بلون ڈال کر کام چلایا جا رہا ہے۔
ان
کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر صاحب بتائیں کہ
12 ارب کا بجٹ کہاں جاتا ہے۔ وہ خود دوہزار بیس تک 25 کروڑ 34 تنخواہ مین مد میں وصول کرچکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ
جس اسپتال کا چرچا ہے ،، اس کا یہ
حال ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت کہتی ہے کہ
صوبے کی عوام کو صحت کارڈ کی ضرورت نہیں ۔