کراچی میں
نادرن بائی پاس پر گوٹھ اراضی پر
تنازعے کا کیس۔ سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئےگوٹھ آباد کرنا قبضہ کرنے کا لائسنس
ہے۔یہ حکومتی کارناموں میں سے ایک ہے۔ ڈی
سی اتنا طاقت ور ہوگیا کہ چھ ایکڑ اراضی صنعت کے لئے دے دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں نادرن بائی پاس پر فیروز شیدی گوٹھ اراضی
پر تنازعے کے کیس پر سماعت ہوئی۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے گوٹھ آباد
کرنا قبضہ کرنے کا لائسنس ہے۔اتنی بڑی بڑی زمینیں دیکھ کر حیرانی ہوتی
ہے۔عدالت نے کہا بتایا جائے، قیمتی زمین کیسے
کوڑیوں کے بھاؤ دی گئیں۔ نادرن بائی پاس پر گوٹھ کہاں سے آگئے۔ حکومت نے جو
کارنامے کیے،،، ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔تمام فریقین جوابات جمع کرائیں۔ سرکاری وکیل نے کہا یہ گوٹھ
اور انڈسٹری پلاٹ کا تنازعہ ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا بیس ایکٹر گوٹھ آباد کے لیے الاٹ کی گئی۔اس پر
عدالت نے ریمارکس دیئے بیس ایکٹر گوٹھ کے لیے کیسے الاٹ ہو سکتی ہے۔ گوٹھ آباد اسکیم
بنائی جاتی ہے یا پرانے گوٹھ کو لیز دی جاتی ہے۔ مالک انڈسٹری کے وکیل نے کہا کہ
ضابطے کے مطابق ڈی سی نے چھ ایکٹر اراضی ہمیں انڈسٹری کے لیے دی ۔ اس پر عدالت نے
کہا ڈی سی اتنا طاقتور ہے کہ چھ ایکٹر زمین انڈسٹری کے لیے دے دے۔انڈسٹری
مالک کے وکیل نے کہا دو ہزار گیارہ میں وزیراعلی
نے الاٹمنٹ کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے وزیراعلی سندھ کو کس نے اختیار کیا۔