حکومت
فیڈرل بورڈ آف ریونیوکونیب بنارہی ہے۔سابق
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل وفاقی حکومت پربرس پڑے۔کہاکہ گرفتاری کے اختیارات سے ریونیو
نہیں ہراسانی بڑھے گی۔
انہوں
نےآنےوالےدنوں میں پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کابھی عندیہ دے دیا۔
مسلم
لیگ ن کے رہنمااورسابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی کراچی میں پریس کانفرنس۔
کہاپٹرولیم
مصنوعات پرستائیس فیصد اضافے سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ
ہوجائیگا۔۔۔
پاکستان میں19ارب سے لے کر20 ارب تک پٹرول اور ڈیزل بکتا ہے، اس کا مطلب ہے30 روپے 50 پیسے اوسط فی
لیٹرپیٹرول اور ڈیزل پر لگے گا آج جو ٹیکس
لگا ہوا ہے وہ ساڑھے تین روپے اورتین روپے ہے
اس کا مطب ساڑھے27 روپے ٹیکس لگایا جائے گا۔
انہوں
نے کہاکہ کہ ملک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے قرضے دینے بند کر دیئے ہیں۔۔۔
سابق
وزیرخزانہ بولےکہ حکومت میڈیکل الائونس کی مد میں ٹیکس لے رہی ہے۔
تنخواہ
دار اور کاروباری شخصیات کے لیےحکومت کی ترجیحات الگ ہیں۔
انکا آئی
ایم ایف کا پروگرام معطل ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اپنی گرانٹ روک دی ہے بلکہ ورلڈبنک نے6سو ملین ڈالر دینے تھے وہ بھی
روک دیے ہیںاور ایشین ڈیولپمنٹ بنک نے پیمنٹ پریز کردی ہے۔
مفتاح
اسماعیل نےالزام عائدکیاکہ حکومت ایف بی آرکونیب بنانا چاہتی ہے۔
اسسٹنٹ
کمشنر کو یہ طاقت دے رکھی ہے کہ وہ کسی کاروباری شخص کو حراست میں لے سکتا ہے۔
انہوں
نےکہاکہ پاور آف اریسٹ سولہ اورسترہ گریڈ
کے افسر کو نہیں دینا چاہئے۔۔۔
اس
اقدام سے بزنس مین ہراساں ہونگے کاروباری طبقہ پہلے ہی بجلی گیس کے نرخ کے نیچے
دبا ہوا ہے ۔۔