جب تک انصاف نہیں ملے گا۔۔چپل نہیں پہنوں گی۔نوابشاہ
کی ڈاکٹر پروین رند ننگے پائوں ہی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے چیمبر میں پیش ہوئی۔چیف
جسٹس نے ڈی آئی جی نوابشاہ کی رپورٹ کو مسترد کردی۔ پولیس حکام سے مرکزی ملزم کو
گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔۔
بینظیر بھٹو یونیورسٹی ، نوابشاہ میں ڈاکٹر پروین رند پر تشدد کے معاملے
میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ
کے ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔نوابشاہ کی پولیس
مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئی۔ڈی آئی جی نوابشاہ کی رپورٹ پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار
کیا ۔ریمارکس دیئے مرکزی ملزم نوابشاہ میں سرعام گھوم رہا ہے۔ آپ لوگ
جامشورو میں چھاپے مار ر ہے ہو۔جائو ملزم کو گرفتار کرو۔ ڈی آئی جی نوابشاہ
کوواقعہ کے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے پیش
رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ڈپٹی کمشنر اور نوابشاہ یونیورسٹی کے وائس
چانسلر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
ڈی آئی جی نوابشا خادم رند نے سماعت کے بعد میڈیا
سے گفتگو میں بتایا کہ رپورٹ
پیش کردی ہے۔مزید شواہدا کٹھے کرکے ملزمان کو گرفتار کیا جا ئے گا۔ مرکزی
ملزم مصطفیٰ راجپوت نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت لے رکھی ہے۔
ڈاکٹر پروین رند نے پولیس رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے پولیس پر
برہمی کا اظہار کیا ہے۔پولیس مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔جب تک انصاف نہیں ملے گا،،،
عدالت میں ننگے پائوں پیش ہوتی رہوں گی ۔