کراچی میں سینئر صحافی اطہر متین کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافتی تنظیموں نے کراچی پولیس چیف کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا۔

عمران عمران

 کراچی میں سینئر صحافی اطہر متین کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافتی تنظیموں نے کراچی پولیس چیف کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا۔

کراچی میں سینئر صحافی اطہر متین کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافتی تنظیموں نے کراچی پولیس چیف کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا۔


میڈیا ورکرز نے 4گھنٹے تک کراچی پولیس آفس کے باہر دھرنا دیا  اورقاتلوں  کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرے میں مختلف  سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی

سینئر صحافی اطہر متین کے قتل  پرملزمان   کی گرفتاری کے لئے دیا گیا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم ختم ہوا تو جرنلسٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی احتجاج کرنے کراچی پولیس چیف کے دفتر جا پہنچی


احتجاج میں مقتول صحافی اطہر متین کے بھائی ، بیٹیوں اور عزیز واقارب نے بھی شرکت کی۔ مظاہرے سے خطاب میں طارق متین کا کہنا تھا کہ  ہم انصاف لینے آئے ہیں


صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں نےکہا  کہ شہر کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں۔50فیصد وارداتیں رپورٹ ہی  نہیں ہوتیں۔ انہوں نے قاتل گرفتار نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کا عندیہ بھی دیا


مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے  احتجاجی کیمپ سے شارع فیصل کی جانب مارچ بھی کیا ،کراچی پولیس چیف احتجاجی کیمپ میں پہنچے اور قاتلوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔


میڈیا ورکرز کے احتجاج میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ،  سابق مئیر کراچی وسیم اختر، جماعت اسلامی،پی ایس پی اور پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کرکے اظہار یکجہتی کیا۔