کراچی میں ایک
اور غیرقانونی عمارت کے خلاف فیصلہ آگیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے گزری میں پانچ منزلہ
غیرقانونی عمارت کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی
کورٹ میں گزری کے علاقے میں پانچ
منزلہ عمارت کی تعمیر سے متعلق درخواست پر
سماعت ہوئی۔ عدالت نے عمارت کو مسمار کرنے کا حکم جاری کردیا۔بلڈنگ کو بجلی، پانی اور گیس کے کنکشن منقطع کرنے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے سب رجسٹرار کو ہدایت کی کہ
بلڈنگ کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری ہونے تک،،
کسی کو سب لیز نہ دی جائے۔ عدالت
نے ایس بی سی اے حکام سے دریافت کیا کہ غیر قانونی تعمیرات توڑنے میں کوئی خطرہ
ہے۔جسٹس حسن اظہر نے کہا گراونڈ پلس ٹو بنانے کی اجازت تھی ،،پانچ منزلہ عمارت کیسے
بن گئی۔ عمارت کی چھت پر پینٹ ہاوس بھی بنایا گیا ہے۔اگر عمارت کو توڑ بھی دیا،،،
تو دوبارہ بن جائے گا۔ آخر آپ لوگ کارروائی کرتے کیوں نہیں۔ انسپکٹر ایس بی سی اے
نے کہا میرا ساوتھ زون میں ابھی تبادلہ ہوا ہے۔ جسٹس اظہر رضوی نے دریافت کیا ،،
اس سے پہلے کہاں تھے۔ انسپکٹر نے بتایا وہ ضلعی وسطی میں تعینات تھے۔ عدالت نے دریافت
کیا کہ ناظم آباد اور لالو کھیت میں کتنی
غیر قانونی عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔اس سے پہلے کسی عمارت کو نوٹس دیا،،، کسی کو
مسمار کیا۔ عدالت نے ایس بی سی اے کو تنبیہ
کی کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کریں،، ورنہ آپ کے خلاف کارروائی
ہوجائے گی۔