کراچی میں سکھن سے لاپتہ تین شہریوں کی بازیابی کا معاملہ۔عدالت نے دس مئی کو رپورٹ طلب کرلی۔

نزاہت خان نزاہت خان

کراچی میں سکھن سے لاپتہ تین شہریوں کی بازیابی کا معاملہ۔عدالت نے  دس مئی  کو رپورٹ  طلب کرلی۔

کراچی میں سکھن سے لاپتہ تین شہریوں کی بازیابی کا معاملہ۔عدالت نے  دس مئی  کو رپورٹ  طلب کرلی۔ ریمارکس دیئے  پانچ ماہ میں  ایک چھوٹا سا کام نہیں کر سکے۔ چودہ  روز میں تو قتل کی تحقیقات مکمل کرنا ہوتی ہے۔

 

سندھ ہائیکورٹ نے دوران سماعت   پولیس حکام سے کہا خیبر پختونخوا کے حراستی مرکز جاکر شہریوں کو تلاش کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے  کہا کیوں چیک نہیں کیا، بس یہاں سے بیٹھ کر خط لکھتے رہے۔ کیا خیبر پختونخوا جانے کے لیے ویزا لینا پڑہتا ہے۔ ایس ڈی ایس پی سکھن نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ایک نہیں کئی حراستی مرکز ہیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا  پانچ ماہ میں شہریوں کا سراغ نہیں لگا سکے، ایک چھوٹا سا کام نہیں کر سکے۔چودہ  روز میں تو قتل کی تحقیقات مکمل کرنا ہوتی ہے۔ریمارکس دیئے محکمہ سے مراعاتیں، پیٹرول، تنخواہ، گاڑی نہیں لیتے آپ لوگ۔ تفتیش ایسے نااہل بندے کو کیوں دی ہوئی ہے۔ ہمارے پیسوں سے کس طرح کے بندے کو رکھا ہوا ہے۔عدالت  نے  لیگل اے آئی جی کو ہدایت کی کہ  آئی جی سندھ کو کہیں،، اس بندے کو اب پوسٹنگ نہ دیں۔ یہ بندہ تو پولیس کے اہل ہی نہیں ہے۔ عدالت نے تین لاپتہ شہریوں  کی بازیابی سے متعلق رپورٹ دس  مئی کو طلب کرلی۔