اسلام آباد پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی مرکزی اطلاعات سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری نے کہا ہے قاسم سوری ڈپٹی سپیکر کی کرسی پر بیٹھنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اورآئین کے آرٹیکل (7)53کے (c)کے تحت ڈپٹی سپیکر کے خلاف 8 اپریل کو عدم اعتماد کی قرارداد جمع ہوئی ،
آئینی اور قانونی طور پر عدم اعتماد کی قرارداد سات روز بعد اجلاس کے ایجنڈا پر آنی چاہیئے۔ ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کیا ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے رول (3)12 کے مطابق سات روز مکمل ہونے پر اجلاس کے پہلے دن قرارداد کے علاوہ ایجنڈا پر اور کچھ نہیں ہو سکتا اور ڈپٹی سپیکر کو کرسی پر بیٹھکر سیاسی مفاد کے بجائے آئین اور رولز کی پاسداری کرنی چاہیئے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ اب تک نئے سپیکر کے لئے کاغذاتِ نامزدگی کا اعلان نہیں ہوا ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری 16 اپریل کو اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے قاسم سوری کو چاہیئے کہ فوراً نئے سپیکر کے الیکشن کا شیڈیول جاری کریں، کیونکہ 16 اپریل کے اجلاس میں قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پہلے بھی آئین شکنی کر چکے ہیں
لہٰزا دوبارہ آئین توڑنے کی کوشش بھی نہ کریں اور سپیکر کی کرسی کو غیرجانبدار ہوتی
ہے اوراس کرسی پر بیٹھنے والے پر آئین کا دفاع اور اسکی حفاظت لازم ہے۔