کراچی میں دہشتگردی کے تیسرے
واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس افسران کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔۔
وزیر اعلیٰ نے پرفارمنس نا کرنے پر ایکشن لینے کا عندیہ دیا اور آج 12 بجے اہم
اجلاس بھی طلب کرلیا۔
کھاراد کاغذی بازار میں بم
دھماکے کے بعد وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی
اسپیشل برانچ جاوید اوڈھو اور عمران یعقوب کو
سی ایم ہائوس طلب کر لیا۔۔ وزیراعلیٰ کو واقعے پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس افسران سے سخت برہمی
کا اظہار کیا۔ مراد علی شاہ کے مطابق دہشتگردی کا تیسرے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ
دہشتگرد متحرک ہو رہے ہیں ۔۔پولیس اور انٹیلیجنس کے ادارے اپنا انٹیلیجنس کا کم تیز
کریں۔۔ ہر صورت دہشتگردوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ
دہشتگردی کے خلاف جلد رزلٹ دیں اگر پرفارم
کرکے نہیں دکھایا گیا تو پولیس کے خلاف ایکشن لیا۔جائیگا۔ انہوں نے مزید
کہا کہ شہر اور شہریو ں کو کسی صورت یرغمال
نہیں ہونے دیا جائیگا۔
بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ
کو بتایا گیا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ کے مطابق 4 کےجی دھماکہ خیز مواد
استعمال ہوا ۔۔۔ کھاراد اور صدر میں ایک ہی طرح کے بال بیئرنگ استعمال کئے گئے۔
مراد علی شاہ نے آج دوپہر 12 بجے امن و امان کے حوالے سے اہم اجلاس بھی طلب کرلیا۔