بابر غوری
اشتعال انگیز تقریر کیس میں سات روزہ
جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے۔
سابق
وفاقی وزیر کہتے ہیں والدہ کی طبعیت خراب ہونے پر وطن واپس آیا ہوں۔
تمام
الزامات مسترد کرتا ہوں۔ ان میں سچائی ہوتی،، تو واپس نا
آتا۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی منتظم عدالت میں اشتعال انگیز تقریر کیس میں
مفرور ملزم بابرغوری کو پیش کیا گیا۔
پولیس
کےمطابق ملزم پر اشتعال انگیز تقریر پر تالیاں بجانے کا الزام ہے۔
مقدمے میں موجودہ کنوینر ایم کیوایم خالد مقبول
صدیقی سمیت تینتیس ملزم شامل ہیں۔
انسداد دہشت
گردی عدالت نے سابق وفاقی وزیر پورٹ اینڈ
شپنگ بابر غوری کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
احاطہ عدالت
میں میڈیا سے غیررسمی گفتگومیں بابر غوری
کا کہنا تھا بیمار والدہ کی عیادت کو آیا ہوں۔
ملک سے غیرموجودگی کے دوران ان کے خلاف یہ مقدمہ بنا۔
ان کا کہنا
تھا صولت مرزا کے بیان سمیت،، اپنے خلاف
تمام الزامات مسترد کرتا ہوں۔
اگر ان الزامات میں سچائی ہوتی تو واپس نہیں آتا۔