کراچی ڈیفنس
کلفٹن میں برساتی پانی جمع ہونے کا کیس۔
عدالت نے ریمارکس دیئے لیاری کا حال بھی ڈی ایچ
اے سے بہتر ہوگا۔
کنٹونمنٹ بورڈ
کی رپورٹ میں مسئلہ کا حل نہیں۔بتائیں
نکاسی کہاں کریں گے۔ کوئی سزا نہیں دے
رہا۔بتائیں دو سال میں کیا کیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں دوران سماعت وکیل کلفٹن کنٹونمنٹ کا کہنا تھا کہ رپورٹ پہلے
آچکی ہے
اس میں تمام سفارشات ہیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے
ریمارکس دیئے کہ کچی آبادیوں سے پانی صاف ہوگیا،، لیکن ڈیفنس کلفٹن سے نہیں ہوا۔
سڑکوں پر گڑھے بن چکے ہیں ۔ لیاری کا حال بھی ڈی
ایچ اے سے بہتر ہوگا ۔
فیز
ون آدھا کچی آبادی بن چکا ہے ۔
یہ کیس بھی آیا تھا کہ وہاں ڈکیتیاں ہورہی ہیں۔
کنٹونمنٹ والے بتاتے ہوئے شرما رہے تھے ۔
بتائیں مسئلے کا حل کہاں ہے۔ آپ کی رپورٹ میں
حل نہیں ہے۔
کنٹونمنٹ
بورڈ کے وکیل نے کہا کہ پرایئویٹ انجینئرز نے سفارشات تیار کی ہیں ۔جب فیز ون اور
فیز ٹو بنا تھا،، بارشیں نہیں ہوتی تھیں ۔
عدالت نے ریمارکس دیئے اب تو دوسرے فیزز بھی بن گئے ہیں۔
اب
نکاسی کا نظام کیوں نہیں بناتے ۔ دو سال پہلے بارش ہوئی تھی۔
دو
سال میں آپ نے کیا کیا۔
انجنیئر کو بلائیں۔ ہم پوچھیں گے نکاسی کیسے ہوگی
۔
وکیل کلفٹن کنٹونمنٹ نے کہا ہمیں سزا دلوا کر
کچھ نہیں ملے گا۔
جسٹس
حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ سزا کوئی نہیں دے رہا ۔
دو سال میں کیا کیا ہے ؟ وہ بتائیں۔
برساتی
پانی کہاں ڈرین آؤٹ کریں گے ۔ اسے سی ویو کے اندر ڈرین نہیں کرنا ۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کلفٹن کنٹونمنٹ
بورڈ کا تمام معاملے سے کوئی تعلق نہیں ۔